Share
A- A A+
Creation magazine print - 1 yr new subn


US $25.00
View Item
The Creation Answers Book
by Various

US $9.00
View Item

کیا یسوع کی لاش سپاہیوں کے پہنچنے سے پہلے ہی چرائی جا سکتی تھی؟

Image courtesy of www.HolyLandPhotos.org

An open tomb

اس ہفتے ایم ایم ،جنوبی ویلز آسٹریلیا سے ہمیں فیڈ بیک ملا ہے۔ انہوں نے پر تجسس علم رکھنے والوں کے لیے ممکنہ خلا کھولا ہے یعنی یسوع مسیح کے مردوں میں سے جی اٹھنے کے بارے میں جمیس پیڑک جو کہ ٹیکٹون اپالوجیٹکس منٹسری کے بانی اور امپاسبل فیتھ کے بانی ہیں انہوں نے ایک جواب ارسال کیا ھے۔انہوں نے سب سے پہلے اہم سماجی صورت حال کا ذکر کیا ہے جو کہ اکثر جدید مغربی کتاب بینوں کی توجہ کا مرکز ہے تب یہ ظاہر ھوتا ہے جوبھی اس جائے وقوع کی مکمل صورت حال بنے گی۔

سلام

میں اکثر وقت کے اس خلا پر حیران ھوتا ھو ں جو یسوع کی لاش قبر میں رکھے جانے [جمے کی دوپہر کے بعد] اور سردار کاہنوں اور فریسیوں کی اگلی صبح یہ درخواست کہ یسوع کی قبر پر سپاہی تعینات کئے جائیں کے درمیان تھا ۔

شکی المزاج عالمم اس خلا کو دیکھنے کی خواہش رکھتے ھیں جو کہ اس دلیل میں موجود ھےکہ یسوع مردوں میں سے زندہ ھوئے تھے۔میرا خیال ھے کہ اس کے لیے اس وقت کے خلا کو سمجھنا آسان اور اھم ھو گا۔وہ دلیل دے سکتے ھیں کہ یسوع اور اس کے شاگردوں نے رومی سپاہی پہچنے سے پہلے ہی لاش چرالی ھو گی ۔شاگردوں کے بارے میں کوئی بھی بحث [یا جو بھی وہ لاش چرانے کے بارے میں کہتے ھیں] سبت کے حوالے سے ھو سکتی ھے جو کہ جعمہ کی شام کو شروع ھوئی تو میرا خیال ھے کہ ایسے شاطروں کے لیےیہ کوئی فلمی ثبوت سے کم نہ ھوگا۔ آخر کار ، وہ ایک نیا مذاہب شروع کرنے کے لیے جھوٹ بولنا اور دھوکہ دینا چاھیں گے[جیسا کہ میں خیال کرتا ھوں کہ یہ شاطر اس پر ہی یقین رکھتے ھیں کیونکہ وہ ایسا ہی کرنا چاہتے ہیں۔تب وہ سبت منانے کے لیے مجبور کیوں تھے؟اگر یہ ان کے راستے میں ایسا کرنے کی رکاوٹ بنتا؟

میں نے اس بات کے متعلق آپکی ویب سائٹ پر کافی کھوج بین کی ہے۔اور میں نے اس کے متعلق کچھ بھی نہیں پایا۔ جو کچھ بھی میں نےپا یا ہے اس کی رغبت اس بات کی طرف ہے کہ شاگردوں کا یسوع کی لاش کو چرانا ناممکن ہے کیونکہ ان کو رومی سپاہیوں کی نگرانی سے آگے بڑھ کے جانا تھا۔یا شاگردوں کو کچھ بھی ایسا نہیں کرنا تھا۔کیوں کہ اس ایزارسانی کے بعد وہ اس جھوٹ کی وجہ سے اور بھی مشکلات کا شکار ھو سکتے تھے ۔میں اس دلیل کو سمجھتا ھوں ۔اور یہ جاندار بھی اور مجھے سچائی پر قائل بھی کرتی ھے۔لیکن یہ کسی بھی اس ممکنہ صورت کہ یسوع کی لاش سپاہیوں کی تعناتی سے پہلے ہی چرائی گئی تھی اس کو ثابت نہیں کرتی ۔کسی نے اس پر بحث نہیں کی اور اس کو غلط ثابت نہیں کیا ۔میں اس کو پا نہیں سکا۔یا یہ بھی ھو سکتا ھے کہ میں نے کسی چیز کو مکمل طور پر کھو دیا ھے یا کوئی میرے لیے اس بات پر روشنی ڈال سکتا ھے۔

آپکی منسٹری کا اور اس جوابے لیے می کں آپکا تہہ دل سے مشکور ھوں۔

مقدس متی کے مطابق سپاہیوں کی قبر کی نگرانی کی دلیل کی تکمیل کے سلسلے میں صرف قبر کو بہت تھوڑے عرصے کے لیے خالی چھوڑا گیا تھا [پیلاطوس کو درخواست گزاری کے بعد لیکن سپاہیوں کے اس جگہ پہچنے سے پہلے] ھو سکتا ھے کہ کچھ اھم باتوں کو سرسری نظر سے دیکھا گیا ھو،لیکن یہ ان دونوں قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کرتا ھے۔پہلے تو یہ ھے کہ اس درمیانی وقفہ میں،قبر پر پیلاطوس کے تعینات کردہ سپاہی موجود نہ تھے۔یہ نہ قابل فہم ھے کہ قبر کی نگرانی نہیں کی جا رہی تھی ۔کاہنوں کی بدگمانی اس لمحے ظاہر ھوئی جب وہ پیلاطوس کے پاس گئےاور قبر کے بارے میں ہزاروں شک و شبہات کا اظہار کیا۔یہ عجیب ھو سکتا ھے کہ اگر کوئی شروع سے ہی قبر کی نگرانی نہ کرے۔

جیسا کہ اگر کسی مجرم کو سزائے موت کا حکم دیا جاتا تھا تو رواج کے مطابق یسوع کی موت پر ماتم کرنا منع تھا ۔قبر کی نگرانی اس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ اس کے شاگردوں کو ماتم زنی سے روکا جائے

مزید لاش کو چوری ھونے سے بچانے کے لیے قبر کی بھی خاص معاشرتی وجوہات کی بنا پر نگرانی کرنا ضروری تھا۔جیسا کہ اگر کسی مجرم کو سزائے موت کا حکم دیا جاتا تھا تو رواج کے مطابق یسوع کی موت پر ماتم کرنا سخت منع تھا ۔قبر کی نگرانی اس لحاظ سے بھی کہ اس کے شاگردوں کو ماتم زنی سے روکا جائے ضروری و اھم تھی ۔

یہ مزید وجوہات پر روشنی ڈالے گی کہ کیوں قبر کو کاہنوں کے اتحادی سپاہیوں کی مدد سے زیر نگرانی رکھا گیا،جو کہ لاش کے چرانے کے معاملے پر تعینات تھے اور کچھ بھی ابہام پیدا کر سکتے تھے جو کہ ایک عام سپاہی کی ضد ھو سکتا تھا جن کے لیے کاہنوں نے درخواست کی تھی [یہ اتفاقی طور پر بھی بیان کرتا ھے کہ متی ہی کیوں سپاہیوں کے بارے میں اس طرح ذکر کرتا ھےیہ کچھ ایسا ھے جو کہ یسوع کی عزت و مرتبہ کے بر خلاف ھے۔]

آخر کار ،یہاں ایک قیاس ھے کہ اگر لاش کو اس درمیانی وقفہ میں ہی چرایا تھا ۔تو ھم ایک مفروضہ قائم کر سکتے ھیں کہ یوسف نے ایک ٹن کا پتھر وہاں رکھا تھا تب چوروں نے بعد میں اسے کھول لیا ھو گا [لاش چرانے کے لیے] اور پھر اسے واپس اسی جگہ پر ]چوری چھپانے]کے لیے رکھ دیا تھا اور تب کسی اور نے [کیوں؟]اسے دوبارہ کھولا تھا [شگردوں کو بے قوف بنانے کے لیے] یہ خیال اتنا عجیب ھے کہ میں چوروں کے بارے میں کہوں گا کہ قبر کا پتھر ایک بہیودگی سے کم نہیں ھے۔

مزید جان کاری کے لیے

سوال وجواب: کیا یسوع واقع ہی مردوں میں سے جی اٹھا

سائنس اور معجزات


Evolution is supported and endorsed by governments, the media, our major educational institutions and many big businesses. But look at this site and see how much can be achieved with a little effort from God's people in supporting such outreach. Support this site

Copied to clipboard
5762
Product added to cart.
Click store to checkout.
In your shopping cart

Remove All Products in Cart
Go to store and Checkout
Go to store
Total price does not include shipping costs. Prices subject to change in accordance with your country’s store.