Share
A- A A+
Free Email News
The Creation Answers Book
by Various

US $14.00
View Item

زندگی: خدا کی طرف سےایک تحفہ

منجانب : میتھیو پایرسی ()

’نہ ہی میں کسی کو مہلک نشہ دونگا اگر کوئی اِس کے لئے پوچھتا ہے ، نہ ہی میں اِس کے اثر کا مشورہ دونگا۔ اِسی طرح ، میں عورت کو ناکام علاج نہ دونگا ۔‘ The Hippocratic Oath.1

یہ الفاظ ، مسیح سے تقریباً چار صدیاں پہلے لکھے گئے تھے ، جو آ ج تک مفید مطلب کو تھامے ہوئے ہیں ۔ اُن کا لکھاری Hippocrates ایک فلاسفر اور قدیم یونانی طبیب تھا جسے اکثر ’ ادویات کا باپ‘ قیاس کیا گیا ہے ۔ ’Hippocrates‘ ’ حلف ‘ encapsulated کا تصور یونانی فلاسفی میں غالب رہا کہ خود سوزی ایک سماجی بُرائی تھی جس طرح کسی دوسرے انسانی شخص کو قتل کرنا تھا ، لیکن پہلی مرتبہ اِسے ڈاکڑو ں کے مجموعہ قوانین کی مشق کےلئے قائم کیا گیا ۔

بہت سے مغربی ممالک میں اب بھی طب کے طالبِ علموں کو مندرجہ بالاحلف ‘Hippocratic’ کی ضرورت تھی ۔ بہر حال ، مخالفِ اسقاط ِ حمل کم از کم میرے مُلک آسٹریلیا میں ، موزوں طور پر (اور المناک طور پر) ختم ہو چُکا ہے ، ہماری ارتقائی تہذ یب کی اخلاقیات کو رواج دینے کے عمل کے عکس کے طو ر پر۔جدید دوا سب کجھ رکھتی ہے لیکن انسانی زندگی کے تقدس سے دست کشی کر تی ہے جوHippocrates کو ظاہر کرتی ہے ، اور جو پیدائش میں انسا ن کے خدا کی شبیہ پر بنائے جانے کی تفصیل میں بھی پایا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر ، آ ج بہت سارے اسقاطِ حمل کو کسی انسان مخلوق کی تباہی کی بجائے ، ’ حاملہ ہونے کے انتخاب ‘ کو قیاس کر تے ہیں ۔ طبی علاج معالجہ کو مر یضوں سے اِس بنیاد پر الگ کر دیا جاتا ہے کہ اُ ن کے پاس ’ زندگی کی خصوصیات کی کمی ہے ، بانسبت یہ قیاس کر تے ہوئے کہ آیا کہ علاج اُس شخص کے صحت یاب ھونے میں مدد کرے گا یا قدرتی خاتمے تک اُن کی زندگی محفوظ رکھے گا۔

یقین جسے ہم نے سادہ مخلوقات سے سُلجھایا اِسے اکثر خدا کے تخلیق کار کے طور پر واجب طور پر رد کئے جانے کے لئے اور بعد ازاں اُس کے قانون کے ذریعے اُس کے اختیار کے رد کئے جانے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ۔ خدا کے بغیر ، زندگی بے مقصد بن جاتی ہے ۔ نا اہلیت ، دُکھ ا ور زندگی کی آخری مراحل بے معنی نظر آتے ہیں ۔ یہ ’ زندگی کی تہذ یب ‘ کے لئے حصہ ڈالنے کا مقصد ہے ،جو کہ مغربی دُینا کے مختلف مقامات پر اثر انداز ہو تا ہے جیسے کہ ادویات اور حفظانِ صحت ۔

جہاں لوگوں کی زندگیاں دوسروں پر منحصر ہوتی ہیں ۔ یہeuthanasia کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ’ موت کی تہذ یب‘ کی جانب ذہنی رجحان میں تبدیلی کا حصہ ہے ۔ زیادہ عرصہ نہیں ہو ا ، کہ دُنیا نے امریکہ کی عدالت کے قانون کو دکھایا کہ ایک معذور شخص ، Terri Schiavoکو فاقہ کشی اور dehydration سے مر جانا چاہیے ۔ کیسے ایک معصوم شخص اِس طرح جان بوُجھ کر قتل کیا جا سکتا تھا ؟ (یاد رکھیے کہ یہ پیچیدہ آلاتِ جر ثقیل کو ہٹانے کی مانندنہیں ہے ، کسی ایک کےلئے جو مرے گا اگر اُسے پانی او ر خوراک حاصل کر نے سے روک دیا جائے ، پس ، تعریف کے اعتبار سے ، ہم قتل کے واضح عمل کے بارے بات کر رہے ہیں)

حقیقت یہ کہ لوگ اپنی اِس سمجھ کو کھو چُکے ہیں جو انسان بننے کا مطلب ہے ۔ زندگی، خوبصورت تحفہ ہونے کی بجائے ، اِس کی ’خصوصیات‘ کے مطابق اِس کی قمیت لگائی جا تی ہے ۔ ایک شخص جب تک کہ وہ جوان ہے ، چُستی اور پیداواری صلاحیت ’ زندگی کی اعلیٰ خاصیت رکھتا ہے ۔ اب ایک بار جب تک یہ شخص بوڑھا نہیں ہو جاتا ، معذور یا کسی پر انحصار کرنے والا ، خاصیت کم ہو جاتی ہے ، اور اُس مرد یا عورت کی زندگی کو مزید لائق طور پر رہنے یا محفوظ ہونے کے طور پر قیاس نہیں کیا جاتا ۔ افاقہ کے امکان کے بغیر ، نا اہلی یا دوسروں پر انحصار کرنا اُس شخص کی زندگی کے اختتام کا سبب بنتا ہے ۔

9307-tablets

Photo stock.xchng

حقیقت یہ کہ لوگ اپنی اِس سمجھ کو کھو چُکے ہیں جو انسان بننے کا مطلب ہے

اِس جذبات کی گونج کو Clint Eastwoodکی مشہور فلم، Million Dollar Baby ، میں بھی پایا گیا تھا۔ مرکزی کردار ، ایک مُکہ باز خاتون ، کامیاب اور نڈر ہونے کے طور پر آغاز کر تی ہے ، لیکن اختتام ریڑھ کی ہڈی کے زخمی ہونے کی درد برداشت کرنے کے ساتھ اُسے مستقل معذور ، روشن دان پر انحصار کر تے اور ہاتھ پاﺅں ہلانے کے قابل نہ ہونے کے طور پر چھوڑتی ہے ۔ اُس کے لئے ، اُس کی پچھلی قابلیت کو کھو جانا بہت کچھ ہے اور وہ موت کی تلاش کر تی ہے ، اور اُس کا روشن دان بند ہو جاتا ہے جسے ہو لی وڈ سے خدا پرستی کے گہر ے عمل کے طور پر بیان کیا گیا ھے ۔(یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہے کہ Third Reich نے اِنہی فلموں کو euthanasia کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو نازی جرمنی2 میں نااہل اور ذہنی معذوری کے خاتمے کو بڑھانے کےلئے استعمال کیا ۔ رحم کھانے سے کہیں دور ، پرواہ کرنے والوں نے اِسے ساد ہ طور پر بہت آسان لیا ۔ بجائے اِس کے کہ اُس کی بیماری کے ذریعے اُس کی مدد کرتے اور اُسے اُس کی زندگی کے حالات کو ترتیب دینے کی اجازت دیتے ( مسیحی مصنف Joni Eareckson Tada کے موافق موازنہ کر تے ہوئے ) ، اُنہوں نے اُسے مارنے کے لیے اصرار کیا ۔ ایک ایسے عمل کے طور پر جو اِس ضروری پہلو کو رد کر تا ہے کہ اُس کی زندگی اُس کے اپنے لینے کے لئے نہیں ہے ۔ خدا کی شبیہ پر بنایا جا نا ، اُس کے پاس اپنی ذاتی زندگی کو تباہ کرنے کا کوئی حق نہیں ، یا دوسروں کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں ، جو کچھ بھی اُس کی صورتِ حال تھی ۔

بائبل میں ایوب کی کہانی تشریح بیان کر تی ہے کہ کیسے اُ س نے ’ خدا کی تکفیر کرنے اور مر جانے ‘ سے انکار کیا تھا (ایوب9:2) اپنی بیویٰ کے اُسے یہ صلاح دینے سے نفرت کر تے ہوئے ۔ ایسا اِ س لیے تھا کیونکہ ایوب خدا سے ڈرتا تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ صرف اُسی کے پاس زندگی لینے اور دینے کا اختیار ہے ۔ یہاں تک کہ اگر زندگی کی تمام خوشی لے لی گئی ہے ، جیسا کہ ایوب کے ساتھ تھا ، یہ تب بھی زندگی لینے کے لئے واجب نہیں ہو گا ۔ یہاں تک دُکھ برداشت کرنے کی گہرایئوں میں ، خداوند کی شبیہ باقی رہتی ہے ، اور زندگی حقیقی اچھائی ، حفاظت اور مدد کے لائق باقی رہتی ہے ۔ حقیقت کا ذکر نہ کرنا یہ بہت ا ہم مثال ہے ، لوگوں نے غیر متوقع طور پر اِس سے نجات حاصل کر لی تھی جسے طبی حالت میں نا اُ میدی“ کے طور پر قیاس کیا گیا تھا ۔

اپنی اصل سمجھ میں ، زندگی کے تحفے کی عمیق طور پر رد کئے جانے کی اور Euthanasia, بعد ازاں خود دینے والے کی نمائندگی کرتا ہے۔

جب عدالتیں یا اشخاص زندگی یا موت کا فیصلہ کرنے والے بنتے ہیں ، بنی نو ع انسان کے ہاتھوں میں ایسی طاقت ( جسے ادنیٰ طر یقے سے عقلمندی سے قلمبند کیا گیا ہے ) جو کُھلی بد سلوکی ، غلط فیصلہ کرنا ، اور تعصب پیدا کرنا ہے ۔

مسیحی کلیسا ، اور بلا شبہ عام طور پر معاشرے کو ، کبھی جھوٹ کو قبول نہیں کرنا چاہیے کہ euthanasia ’ ایک اچھی موت‘ کی نمائندگی کرتا ہے ( علم انسان کے الفاظ لاگو کرنے کے طور پر3) ۔ Euthanasia، اپنی اصل سمجھ میں ، زندگی کے تحفے کی عمیق طور پر رد کئے جانے کی اور بعد ازاں خود دینے والے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ، یہاں اُس شخص کی شناخت ہو نی چاہیے ، کہ اِسے فطرتی موت کے تصور سے حقیقی قدر اورعظمت رکھتے ہوئے خدا کی شبیہ پر بنایا گیا ہے ۔

مغربی تہذ یب میں زندگی کی عزت و احترام کے زوال پذ یز ہونے کے ایک اور آثار کو ارتقائی انسانی محبت کی بنیاد پر بائبلی نظر یے سے المےالمیائی بنیاد پر تبدیل کر دیا گیا ہے ۔

  1. As translated by Ludwig Edelstein. Return to text.
  2. Burleigh, M., Death and Deliverance, Cambridge University Press, New York, USA, p. 210, 1994. Return to text.
  3. From the Greek eu = good or easy, and thanatos = death. Return to text.

Where are you while reading this article? In the privacy of your own home? The internet, and this site in particular, can be a powerful tool for reaching those who would never go to church. Keep the penetration going by supporting this outreach. Support this site

Copied to clipboard
9307
Product added to cart.
Click store to checkout.
In your shopping cart

Remove All Products in Cart
Go to store and Checkout
Go to store
Total price does not include shipping costs. Prices subject to change in accordance with your country’s store.