Also Available in:

بولچال

ت

Also available in Punjabi and English

قریر اور زبانحیران کن صلاحیتوںمیں سے ہیں جوبنی نوع انسانکو جانوروں کیدنیا سے علیٰحدہکرتی ہیں ۔ ایکدوسرے کے سامنےمشکل خیالاتکی وضاحت کرنااتنی پُرانیبات ہے جتنے بنینوع انسان پُرانےہیں ۔ واضح کرناکہاں سے زبانشروع ہوئی ، اگرکوئی ارتقا کوقبول کرتا ہے، تو یہ بالکلمختلف معاملہہے ۔۔۔۔


ازکیون مے

مترجم:مبشرمائیکل عرفان


زندگیکے عظیم بھیدوںمیں سے ایک زبانکا شروع ہے ۔ ہماِسے ہر روز ایکدوسرے کے ساتھگفت و شنید کرنےکے لئے استعمالکرتے ہیں، لیکنیہ کیسے شروعہوئی۔ ہزاروںسال تک لوگ جوابڈھونڈ چکے ہیں، اور بے شک ہمارےدَور میں بہتسارے لوگ ایکلمبی ، آہستہترقی کی اصطلاحوںمیں وضاحت پیشکرتے ہیں ۔ لیکنکیا یہ حقیقتپسند ہے؟

ہمکیسے بولتے ہیں؟آوازیں پیداکرنا


ہمآواز پیدا کرنےکے دو بڑے طریقےرکھتے ہیں ۔ ایکآواز کے خانےکی ارتعاش ہیں، اور دوسراہمارے منہ اورگلے میں مختلفطریقوں سے روکییا چھوڑی گئیہوا کے بہاؤ کیسرگوشیاں اوردھماکے ہیں ۔یہ آوازیں خانوںکی شکل اور حجمکے ذریعے تبدیلہوتی ہیں جن کےذریعے ہوا کابہاؤ گزرتا ہے، جن میں آوازیںگھونجتی یاارتعاش پیداکرتی ہیں ۔ ہماِنھیں گلے ،جبڑے ، زبان اورہونٹوں کے مسلکو استعمال کرکے کنٹرول کرسکتے ہیں۔ دماغمرکز رکھتا ہےجو اِن مسلوںکے پاس ہدایاتبھیجتا ہے ،اُنھیں حرکتکرنے کا بتاتاہے تاکہ ہر کامیابآواز بن جائےجسے ہم چاہتےہیں۔


بےشک ،آواز کسیفائدہ کی نہیںہوگی جب تک اُسیوقت ہم آواز کوسننے کی صلاحیتنہیں رکھتے،اور آوازوں کیترتیب کی بامعنیزبان کے طورپرتشریح کی صلاحیتنہیں رکھتے۔انسانی کان بےانتہا پیچیدہعضو ہے، جسے میںیہاں بیان کرنےکی کوشش نہیںکروں گا ۔ سائنسدانذہن کے آوازوںکی تشریح کرنےاور اُنھیںخیالات ظاہرکرنے کے عواملکے طریقہ کارکا مطالعہ کررہے ہیں جس کیوہ نمائندگیکرتے ہیں ، اوراُنھیں ہمیںمکمل طورپرسمجھنے سے پہلےیہ کیسے ہوتاہے لمبے عرصےمیں سے گزرناہے۔


اِس طرح پورے جسمانینظام کو کامیابیسے زبان استعمالکرنے کے سلسلےمیں مکمل طورپرفعال ہونا ہے۔یقیناً آوازپیدا کرنے کانظام اور سننےکا نظام اوراِسے سمجھنےکا نظام ہوناچاہیے۔ یہ ہےجو اِسے اتناسمجھنا ناقابلیقین بنا دیتاہےکہ ہم نے تھوڑاتھوڑا کر کےزبان کی صلاحیتکو ترقی دی جبتک یہ مکمل نہہوئی ۔ کہاں سےمعلومات یامنصوبے پیداہو سکتے ہیں جومل جُل کر جسممیں تمام ضروریساختوں کو اکٹھاکرتے ہیں جس طرحیہ تشکیل پاتیں ہیں ؟ صرف ہمارےلامحدود دانشورخُدایِ خالقکے ہاتھ سے!

زبانکیا ہے ؟


زبانعلامات کا نظامہے جو چیزوں اورخیالات کو پیشکرتا ہے۔ زبانمیں سب سے زیادہواضح علاماتآوازیں ہیں جوہمبولتے ہیں، جہاںآوازوں کی ترتیبایک مطلب رکھتیہے جنھیں ہمظاہر کرنا چاہتےہیں۔ لیکن دوسریعلامات بھی ہیں، جیسے لکھنایعنی جوآپ ابپڑھ رہے ہیں ،اور بہروں کیاستعمال ہونےوالی اشاراتیزبان ۔ جب بھیدو یا زیادہ لوگعلامات کا مشترکسیٹ بانٹتے ہیں، تو وہ اُنھیںخیالات اورمعلومات بانٹنے کے لئے استعمالکرنے کے قابلہیں ۔ لیکن دولوگ جو مشترکزبان نہیں رکھتےبالکل زیادہبات چیت کے قابلنہیں ہیں ۔ ہمسے زیادہ تربیرونی زبانمیں کسی کو بولتےسن چکے ہیں ،اور ہم جانتےہیں کہ اُس میںسے حتیٰ کہ تھوڑابہت سمجھنا کتنامشکل ہے۔ لیکنجب کوئی شخصہماری ذاتی زبانبولتا ہے، توہم پوری حد تکبات چیت کر سکتےہیں ۔


آوازیںاستعمال کر کےاشارے کرنا


جبہم بولتے ہیں، تو ہم آواز کیترتیب بناتےہیں جو معنی کوبے پردہ کرتیہے ۔ ہم زبان کیانفرادی اکائیکو ’الفاظ‘ کہتےہیں ، اور ہمفقرے بنانے کےلئے ایک مناسبترتیب میں اُنھیںباہم جوڑتے ہیں۔1ہرسادہ لفظ ایکخاص نظریہ ، چیز، عمل ، یا اِندو یا زیادہ کےدرمیان تعلقکو ظاہر کرنےوالی کوئی چیزپیش کر سکتا ہے۔ طریقہ کار جسسے ہم الفاظکہتے ہیں بھیظاہر کر سکتاہے کیسے ہم محسوسکرتے ہیں ہم کیاکہہ رہے ہیں ،مثلاً جب ہم لفظپر زور دیتے ،یا اپنی آوازکو اونچا یانیچا کرتے ہیں۔

گرائمرکے نمونے


ترتیبجس میں ہم الفاظکہتے ہیں ہماریزبان کی گرائمرکا پہلو ہے۔دوسری زبانیںاپنے ذاتی خصوصیقواعد و ضوابطرکھتی ہیں، اوروہ ایک دوسریسے بہت مشکل ہوسکتی ہیں ۔2جبہم کوئی زبانسیکھتے ہیں ہمیںاِس کے گرائمرکے اصول و ضوابطکے ساتھ روشناسہونا ہے ، تاکہہم جو کہیں ٹھیکآواز دے اورسننے والوں کےلئے بامعنی ہو۔کسی زبان کےاصول کو استعمالکرنے کا فائدہنہیں ہے ، کیونکہنتائج ہمیشہبالکل خاص ہیں، اور حتیٰ کہمعنی کو مکملطورپر بدل سکتےہیں ۔

کلامکیا فرماتا ہے


کلامکہیں نہیں بتاتاکیسے زبان شروعہوئی ۔ زبان کاوجود بالکل شروعسے نظر آتا ہے– حتیٰ کہ تخلیقسے پیشتر!تخلیقکے پہلے دن ،خُدا نے فرمایا، ’روشنی ہوجا!‘(پیدایش۱:۳)۔خُدا نے جو فرمایاہوگیا ، اورروشنی پیدا ہوگئی ۔ اِسی طرحخُد انے دوسریباتیں فرمائیں،اور وہ بھی وجودمیں آگئی جس طرحاُس نے فرمایا۔


یہہمیں بتاتا ہےکہ خُدا ، حیرتکی بات نہیں ،پہلے ہی ذاتیاظہار، یا زبان، استعمال کےلئے مہیا رکھتاتھا ۔ ہم جانتےہیں کہ باپ،بیٹے ، اور روحالقدس کے درمیانآسمان پر تخلیقشروع ہونے سےپہلے رفاقت اورمکمل گفت و شنیدہوتی تھی ، اگرچہہم نہیں جانسکتے کس قسم کیزبان استعمالہوتی تھی۔ ہمارےلئے یہ واقعیکوئی مطلب نہیںرکھتا کو نسے طریقے خُدا نےتخلیق میں اپنیمرضی ظاہر کرنےکے لئے استعمالکیے ۔ پیدایشکا مصنف سادگیسے اپنی ذاتیزبان میں دونوںحقیقتوں کو قلمبند کر چکا ہےجو خُد انے بولیں اور مضمون کو جو اُس نے فرمایا۔


حقیقتکہ ہم انساناپنے آپ کو ایکدوسرے کے سامنےظاہر کر سکتےہیں، اور خُداکے سامنے، ایکلاجواب طریقےمیں ہم کرتے ہیںاُس گنجائش کاعکس ہے جو خُداکےپاس ہے ، چونکہہم اُس کی شبیہپر پید اہوئےہیں۔ وہ ہماریزبان کے شعبےکا حتمی ذریعہہے۔ تب خُد انےآدم اور حوا کوکس قسم کی زبانعطا کی؟

خُدانے آدم اور حواکے ساتھ بات کی


خُدانے آدم اور حواکےساتھ بات چیتکی، اُنھیںبالکل شروع میںپھلنے اور پھولنےکا حکم دیا (پیدایش۱:۲۸)۔اُ س نے اُنھیںیہ ہدایات بھیدی کیا کھائیںاور کیا نہ کھائیں۔دوسری بھی باتیںتھی جو خُد انےاُن سے فرمائیں،اُن میں سے بعضقلمبند کی گئیہیں ، خاص طورپرپیدایش باب ۳میں۔

انسانبالکل شروع سےزبان کی صلاحیترکھتے تھے


ظاہرہے آدم اور حوانے خُدا کے ساتھزبان کی سہولتکو بانٹا ، تاکہوہ اُس کے ساتھبات چیت کر سکیں۔اُن کی زبان اُنکے لئے سب کچھسمجھنے کے واسطے مکمل تھی جوخُد اُن سے فرمارہا تھا۔ اِسلئے ، نتیجےمیں پیدا ہونےوالے تمام لوگوںکی طرح ، اُنمیں سے بعض کےالفاظ کا ذخیرہپہلے سے متعینہو سکتا ہے ۔3اُنھیںیقیناً پہلےہی گرائمر کےاصول و ضوابطسمجھنے چاہیے، اگرچہ اُن کےپاس شروع کرنےکے لئے پورےالفاظ کا ذخیرہنہیں ہو سکتا۔یقینی طورپراُن کی اصل زبانمحض چند سادہاشاروکناؤںسے زیادہ نہیںہو سکتی تھی ۔4

خُدانے کچھ چیزوںکو نام دیا ،دوسری چیزوںکو آدم نے نامدیا


پیدایشہمیں بتاتی ہےکہ جب خُد انےکچھ چیزیں پیداکیں، تو اُس نےاُنھیں نام بھیدیے۔ اُس نےروشنی کو ’دن‘کہا ، اور تاریکیکو ’رات‘ کہا۔اُس نے آسمان، زمین، اورسمندر کو بھینام دیا ۔ اگرچہپیدایش ہمیںوضاحت سے نہیںبتاتی کہ اُسنے ستاروں کونام دیا ،یسعیاہ ۴۰:۲۶فرماتا ہے کہوہ تمام ستاروںکو نام بنامبلاتا ہے۔


دوسریجانب، یہ آدمتھا جس نے پرندوںاورجانوروںکو نام دئیے (پیدایش۲:۱۹)،اور یہ تھا جسنے عورت کو نامدیا۔ یہ ہے کیوںہم کہتے ہیں کہاُس کے الفاظکا ذخیرہ وسیعہوگیا ، کیونکہاُ س نے بہت ساریزندہ مخلوقات،مویشی، پرندوں،اور وغیرہ وغیرہکو نام دئیے۔(ایڈی:اِسمیں غالباً صرفکمر والے زمینیجاندار شاملہیں ۔)


کسیجاندار کو یاشے کو نام دیناقدیم زمانے میںاختیار کی مشقسمجھا جاتا تھا۔ہم ان آیات سےدیکھتے ہیں کہخُدا ہر دن ،رات، آسمان اوراُن کے لشکر ،زمین اور سمندرپر اختیار رکھتاہے ۔ جب آدم نےپرندوں اورجانوروں کو نامدئیے، تو وہاختیار کی مشقکر رہا تھا جوخُدا نے اُسےپیدایش ۱:۲۸میں زندہ چیزوںپر حکومت کرنےکے لئے دیا۔ اوراُس کا حوا کونام دینا ظاہرکرتا ہے کہ آدمکو حتیٰ کہ گرنےسےپیشتر ازدواجمیں حاکمیترکھنا تھی۔

انسانکو زبان ایکمکمل کام کرنےوالے نظام کےطورپر دی گئیتھی


اِسلئے آدم اور حواکی زبان کو یقیناًمکمل کام کرنےوالا نظام رکھناچاہیے ، اگرچہیہ شروع کرنےکے لئے سارےالفاظ کا ذخیرہنہیں رکھ سکتی۔ یہ بالکل آجکی زبان کی مانندہے ۔ ہمارے پاسایک مکمل نظامہے ، ہم نئی ایجاداتاور دریافتوںکا احاطہ کرنےکے لئے کسی بھیوقت نئے لفظشامل کرنے کےقابل ہیں ، اورنئے کام جو ہمکرتے یا دیکھتےہیں ۔ پس زبانکی گرائمر بڑےپیمانے کے طورپرچیزوں اور عملوںکے لئے الفاظکے خود مختارسیٹ کے طورپرسوچی جا سکتیہے۔ خُد انے آدماو رحوا کو وہینظام ، سب سمجھنےکے لئے کافیالفاظ کے ساتھساتھ عطا کیاجو اُسے اُنھیہدایت دینےاوراُن کے ساتھرفاقت بانٹنےکے لئے درکارتھے ۔ بعد میں،آدم اور حواالفاظ شامل کرسکتے تھے جس طرحاُنھیں ضرورتتھی۔


ہرمعاشرے میں عامبچے اپنی ذاتیزبان کا گرائمرکا نظام اپنے اِبتدائی سالوںمیں سیکھنے کیصلاحیت رکھتےہیں۔ چھوٹے بچےکو بولنا سیکھتےدیکھنا پُرکششکام ہے۔ یہ ہماریآنکھوں کے سامنےایک نیا ظاہرہونے والے معجزےکی مانند ہے ۔کہا جاتا ہے کہکوئی بچہ پہلےہی اپنی آبائیزبان کے گرائمرکے سارے اصولو ضوابط استعمالکر سکتا ہے اُسوقت جب وہ پانچسال کا ہو جاتاہے۔5بچےاِس کے بعد بہتسارے الفاظسیکھیں گے ،خصوصی طورپرعنفوانِ شبابمیں، لیکن نمونہجات جس میں نئےالفاظ استعمالہو ں گے پہلے ہیجگہ پر ہیں ۔


بیرونیوالدین کےبچے، مختلف زبانبولنے والےمعاشرے میںبڑھتے ہوئے ،دونوں زبانوںکے گرائمر کےنظام کو بظاہرمساوی آسانیکے ساتھ سیکھسکتے ہیں۔ وہتھوڑی دیر لگاسکتے ہیں سوچنےکے لئے کونسااصول کس زبانسے تعلق رکھتاہے، لیکن آخرکار وہ اِسےٹھیک پا لیتےہیں ۔ لیکن بہتسارے بڑے بیرونیزبان سیکھنےوالے پہلے ہیاپنی آبائی زبانکے گرائمر اورمعیاری صوتیاصول و ضوابطمیں پروان چڑھچکے ہیں ، اورمختلف نمونےکو مکمل طورپراختیار کرنےمیں انتہائیمشکل کا سامناکر سکتے ہیں۔

پہلیزبان کیا تھی؟


بابلکے برج کے وقت، ساری دنیا ایکزبان بولتی تھی(پیدایش۱۱:۶)۔کوئی شخص آجنہیں جانتا وہزبان کیا تھی، اور کلام بھیہمیں نہیں بتاتا۔قدیم دَور سےلے کر حتیٰ کہآج تک بعض لوگڈھونڈنے کی کوششکر چکے ہیں یہزبان کیا تھی۔تجربات کیے جاچکے ہیں ، مثلاً مصر میں ایک فرعون سامیٹیچس (۶۶۴تا ۶۱۰ قبل ازمسیح)۔6کہاجاتا ہے وہ گونگےنوکر کی حفاظتمیں دو شیر خواربچے چھوڑ چکاتھا جب تک بدقسمتی سے شیرخوار بچوں نےقابل شناختالفاظ نہ بولےجو مطلب رکھنےکے لئے سمجھےجا سکتے تھے۔اُس نے ایمانرکھا کہ اگربچوں نے دوسریزبان نہ سُنی، جو کچھ وہ خودبنائیں گے اصلزبان کا ثبوتہوگا۔ آخر کار ایک نے کہا ’بیکوس‘ جو ’روٹی‘کے لئے فریجینلفظ میں پایاجاتا تھا، پستجربہ کرنے والےنے نتیجہ نکالاکہ فریجین زبانیقیناً اصلیزبان تھی!


سالوںتک ، بہت سارےدوسرے سوچ چکےہیں کہ وہ اِسسے اصل زبانشناخت کر سکتےہیں وہ کیا موجودہاستعمال میںایک زبان کےکامل ہونے کےلئے سمجھتے ہیں۔لیکن ہر زندہزبان وقت کےساتھ تبدیل ہوتیہے۔ یہ ہے کیوںہر بیس تا پچیسسال کے بعد کلاممقدس کا ’نیا‘ترجمہ کرنا اچھاہے، اِسے تبدیلیکے ساتھ قائمرکھنا جو واقعہوتی ہے۔ (بشرطیکہ وہ بے شک اصلمتن کے ساتھوفادار رہیں)۔پس جو کوئی زبانیںہم آج استعمالمیں پاتے ہیں،ہم بالکل پُریقینہو سکتے ہیں کہوہ وہی زبانیںنہیں ہیں جوہزاروں سال پہلےاصلی زبان کےطورپر بولی جاتیتھیں۔


جدیدزبانیں ایکدوسری سے اتنیمختلف ہیں کہایک واحد مشترکذریعہ پاناناممکن ہے۔ حتیٰکہ قدیم زبانیںجن کے ہم لکھےریکارڈ رکھتےہیں ایک دوسرےسے اِس لئے انتہائیمختلف ہیں۔عبرانی جس میںپیدایش لکھیہوئی قدیم زبانہے، لیکن ہمنتیجہ نہیں نکالسکتے کہ عبرانیاصل زبان تھی۔7ہمبالکل نہیںجانتے ، اور یہواقعی معنی نہیںرکھتا۔ کسی بھیصورتحال میں، ہم جانتے ہیںکہ بابل میںوہاں کئی نئیزبانوں کی اچانکپیدایش ہوئی، اِس طرح آج کیسب زبانوں کےلئے ایک واحد’مشترک آباء‘نہیں ہو سکتا۔تاہم، کئی نئیزبانوں میں سےہر ایک بابل پرتقسیم ہو سکتیتھی ، کئی نسلیزبانوں میں ہرایک اُسی زبان’خاندان‘ کےحصہ میں سے تقسیمہو سکتی تھی۔


کیامعنی رکھتا ہےیہ ہے کہ ہم اپنےپاس اپنی ہدایتکے لئے خُدا کالکھا ہوا پیغامرکھتے ہیں (رومیوں۱۵:۴)۔ہم اِسے سمجھسکتے ہیں اوراِس کی بدولتخُد اکو جاننےکے لئے سیکھسکتے ہیں ، کیونکہیہ ہماری ذاتیزبان میں ترجمہہو چکا ہے۔


آئیںہم خُدا کو ہمیںزبان کا یہ عظیمتحفہ دینے کےلئے سادگی سےشکریہ پیش کریں، اور ہمارے لئےمسیح کے حکم کی متی۲۸:۱۹۔۲۰میں فرمانبرداریکریں ، اِسےدوسروں کو اِسکی عظمت ، قُدرتاور چھڑانے والیمحبت بتانے کےلئے استعمالکریں۔





گرائمرکےمختلفاصولوں کی چندمثالیں

English:

: انگریزی

My son

میرا بیٹا

Loves

محبت کرتا ہے

your daughter

تیری بیٹی سے

Subject

فاعل

Verb

فعل

Object

مفعول

Latin:

: لاطینی

Filius meus

filiam tuam

amat

son my

میرا بیٹا

daughter your

تیری بیٹی سے

Loves

محبت کرتا ہے

Subject

فاعل

Object

مفعول

Verb

فعل

یہدونوں فقرے ایکہی بار کہتےہیں، لیکن اُنکے نمونے مختلفہیں۔ مثال کےطورپر :

  • انگریزی عام طور پر مفعول کو فعل کےبعد رکھتی ہے؛ لاطینی عام طورپر ، لیکن ہمیشہ نہیں، فعل کو آخر میں رکھتی ہے۔

  • انگریزی اسم سے پہلے ’میرا‘ اور ’تیرا‘ کو رکھتی ہے، جب کہ لاطینی اسم کے بعد براجمان کو رکھتی ہے۔

  • لاطینی مختلف الفاظ کا اختتام استعمال کرتی ہے جو دکھاتے ہیں آیا کوئی لفظ فاعل یا مفعول ، مذکر یا مونث ہے۔


عبرانیزبان دونوںبالائی زبانوںسے مختلف ہے،فاعل سے پہلےفعل رکھتی ہے،اور فعل کا مفعولظاہر کرنے کےلئےسابقہ استعمالکرتی ہے:


Hebrew:

: عبرانی

Bara

elohim

eth-hash-shamayim

w-eth-ha-arets

Made

پیدا کیا

God

خُدا

obj-the-heavens

مفعول – آسمان

and-obj-the-earth

اور – مفعول – زمین

‘God made the heavens and the earth’

’خُدا نے زمین و آسمان کو پیدا کیا‘

کیازبانیں تبدیلہو چکی ہیں؟


ارتقاپسند عموماًدعویٰ کرتے ہیںکہ زبانیں جانورکی آوازوں سےفروغ پائی تھی۔بعض حتیٰ کہدعویٰ کرتے ہیںکہ زبانوں کیمسلسل تبدیلیحیاتیاتی ارتقاکی مانند ہے۔تاہم، زبان کے حقیقی مشاہداتانتہائی مختلفتصویر پیش کرتےہیں۔


اول،قدیم زبانیںبہت ساری مختلفتغیرات کےساتھحقیقتاً انتہائیپیچیدہ تھی۔سادہ زبانوںسے کسی عروج کاکوئی اشارہ نہیںہے۔ مثلاً ،انڈو یورپینخاندان میں ،سنسکرت، کلاسیکلیونانی اورلاطینیمختلف صورتحال، تذکیر و تانیثاور اعداد کےلئے بہت سارےمختلف اسماتیتبدیلیاں رکھتےتھے ، جب کہ افعالزمانے ، آواز،عدد اور شخص کےلئے موجود تھے۔اِن زبانوں کیجدید نسلیںتبدیلیوں کیتعداد بہت زیادہکم کر چکی ہیںمثلاً رُجحانپیچیدہ سے سادہ،ارتقا کے اُلٹہے۔ انگریزیزبان تقریباًمکمل طورپرتغیرات کھو چکیہے ، محض چندتغیرات ’-ایس‘‘باقی ہیں۔


انگریزیپینسٹھ تا پچاسیفیصد پُرانیانگریزی کےالفاظ بھی کھوچکی ہے، اور بہتسارے کلاسیکللاطینی کے الفاظبھی اِس کی موجودہزبانوں ، رومانویزبانوں (ہسپانوی،فرنچ، اٹلینوغیرہ)سےبھی کھو چکی ہے۔


دوم،زیادہ تر تبدیلیاںاچانک نہیں بلکہسوچ بچار کانتیجہ تھیں۔مثال کے طورپر:نظامانہآواز کی تبدیلیاں،سادہ الفاظ کوجوڑ کر پیچیدہالفاظ بنانااور لاحقے اورسابقے شامل کرکے تغیرات ،الفاظ کا ردوبدل ، دوسریزبانوں سے الفاظاُدھار لینابشمول کال کیو(ایکاُدھار لیا ہوامرکب لفظ جہاںہر جُز کا ترجمہکیا جاتا ہے اورتب جوڑ لیا جاتاہے)۔

References and notes

  1. Some languages have long words combining many elements of meaning (e.g. Maori and Welsh), while words in other languages may have few or only one element of meaning.

  2. Wieland, C., Towering change, Creation 22(1):22-26, 1999.

  3. ‘Progressive creationist’ Dr Hugh Ross, in trying to refute the plain Biblical teaching of no death before the Fall, argues that Adam and Eve could not have understood God$rsquo;s warning of death as a penalty for sin unless they had already seen things die. However, we see here that there would have been many concepts which they needed to understand prior to being able to experience them.

  4. The typical evolutionary tale supposes that early man’s language developed from nothing more than animal-like grunts.

  5. Fromkin et al., An Introduction to Language, (2nd Australian edition), p. 359, 1991.

  6. Ref. 5, p. 394, Herodotus, quoted by Fromkin et al.

  7. However, it has been pointed out that it was probably something like it, or else the many obvious ‘word plays’ linking people’s names to relevant things would not work. E.g. Adam/adamah (dust, mud, ground), Eve/‘live, living’ (Gen. 3:20) and Cain/‘gotten’ (Gen. 4:1).