لیکن کیا ارتقاء ہمارے وجود کی وضاحت نہیں کرتا ؟

آآج کل ساری دنیا کے طالب علموں کو یہ سکھایا جاتا ہےکہ ہزاروں سال پہلے ایک بڑے دھماکے نے اس کائنات میں موجود ہر ہر چیز کو پیدا کیا بشمول آپکو اور مجھے بھی ۔مکمل قدرتی عوامل کے ذریعہ سے ۔جس کے نتیجہ میں بہت سےلوگ یقین رکھتے ہیں کہ سب چیزیں اپنے آپ تخلیق ہوئیں ،دنیا کا ارتقائی نظریہ اور اِسی طرح کی سوچ رکھنے سے خالقِ خداکی کوئی جگہ نہیں رہتی جس نے حقیقت میں سب چیزیں پیدا کی ہیں — جو ہم سمیت ہر چیز کا مالک ہے ۔خدا کا تصور محض ہمارے دماغ کے ساتھ چال چل رہا ہے اسی طرح کا نظریہ نام نہاد دانشوروں میں پایا جاتا ہے

اگر ہر چیز اپنے آپ ہی وجود میں آتی (ارتقا)،اور خدا ، بھی موجود ہوتا، تو اخلاقیات کا کوئی میعار اور مقصد نہ ہوتا ۔ہر اِنسان اپنی مرضی کر سکتا ہے لوگوں میں یہ بےمعنی سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ ، ہم صرف جانور ہیں ، تو کیوں نہ جانوروں کی سی حرکتیں کریں ۔جیسا کہ دوستو وسکائے نے کہا ،خدا کے علاوہ ہر چیز جائز ہے جرم نا گزیر ہے۔اگرچہ

،یہ ماننا منطقی طور پر فضول ہے کہ،ہر چیز اپنے آپ وجود میں آئی ۔یہ سب ہمارے تجربات کے برعکس ہے اور وجہ اور اثرکے اصول کو کمزور کرتا ہے — جدید سائنس کی بنیاد پر روایتی بے دینی اورسائنس،دیکھیں بہت سے ایسے سائنسدان

  • ارتقاء بے دین کے لیے دُنیا کی تخلیق کی بنیاد ہے ۔

آج کل بہت سے سائنسدان تسلیم کرتے ہیں کہ ارتقاء ناممکن ہے (نیچے دیکھیں)۔یو- ایس -اے میں تقریباً 10،000 سائنسدان ایسے ہیں جو ارتقاء کو مکمل طور رد کرتےاور بائبل پر یقین رکھتے ہیں کہ ہم اِس دُنیا میں کیسے آئے ۔

  • سائنس ماضی کو جاننے میں کمزور ہے۔

اِسی لئے جب بات ماضی پہ آتی ہے ،تو ہم زیادہ تر اپنے عقائد پر انحصار کرتے ہیں کہ کیا ہوا تھا ۔ہم اپنے عقیدے کے نظام کودیکھتے ہیں یا اِسے خدا سے حاصل کر سکتے ہیں — جو سب جانتا ہےاور جو ابتداسے موجود تھا — کلام کے وسیلہ — یہ تصور کے حال ماضی کا تالا ہے ،بے دین فلسفے سے آیا ہے جو بائبل کے بیان کردہ ماضی کو رد کرتا ہے ۔یہ بات سائنسدانوں کے لِئے پریشانی کا باعث ہے کہ اُن کے پاس آزمائش اور پیمائش کے لِئے صرف حال ہی موجود ہے ۔ ۔موجودہ دور کے مشاہدات کو ماضی سے منسلک کیا گیا ۔کشش ثقل پر موجودہ دور میں بھی تحقیق کی جا سکتی ہے ،لیکن ہزاروں سال پہلے زمیں پر کیا ہوا ہو گا اس کے تجرباتی ثبوت موجود نہیں۔

  • مالیکیولز -انسان کے خیال کے خلاف بہت سے سائنسی ثبوت موجود ہیں۔
12617-books

1۔ معلومات اور پیچیدگی۔

بائیو کمسٹری کا جدید علِم (جینز، ڈی -این -اے ،پروٹین وغیرہ)بتاتا ہے کہ سادہ بیکٹیریا انسان کی تخلیق ایک پیچیدہ ترین مشنز سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے اور وہ اپنی نسل اپنے آپ بڑھا سکتے ہیں،20 بیس منٹ سے پہلے اس قسم کی بیکٹیریل ،مشن کے ڈی این اے میں دو کتابوں کے برابر معلومات رکھتا ہے ۔کتابیں اپنے آپ نہیں لکھیں جاتی اور نہ ہی بیکٹیریا اپنے آپ وجود میں آسکتا ہے۔ اگر ایک کتاب کو سمجھ دار خالق کی ضرورت ہے تو ایک بیکٹیریا کو اس سے بھی بڑھ کر ہے،ایک زندگی کی شروعات بغیر خالق کے ہونا ، اس قسم کی معلومات اور پیچیدہ قِسم کی زِندگی کی تر قی ایک ناقابلِ تسخیر منزل ہے ۔ ایک انسانی سیل کے ڈی -این -اے میں پائی جانے والی معلومات تقریباً ایک ہزار کتابوں میں پائی جانے والی معلومات کے برابرہیں ۔اب آپ بیکٹیریا میں 998 مذید کتابوں کی معلومات کو کیسے شامل کر سکتے ہیں ،تاکہ وہ انسان بن جائیں جسطرح ارتقاء پسندون کا دعویٰ ہے کہ یہ ہزاروں سال پہلے ہوا ؟

2۔ محدود تبدیلی۔

جانوروں اور پودوں کی نسل پرستی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ قدرتی انتخاب کی حدود کہاں تک ہیں ـــــچاہے یہ قدرتی ہویا مصنوعی ۔ سؤر کی نسل پرستی اُنہیں اُڑنے کے قابل نہیں بنا سکتی! اور نا ہی نیچرل سیلیکشن جانوروں کے پر اُگا سکتی ہے ۔جانوروں کو اُن کی نسل بڑھانے کے لِئے پیدا کیا گیا جیسا کہ بائبل مقدس میں پیدائش کے پہلے باب میں لکھا ہے ۔قدرتی تبدیلی کے محدود ہونے کے باعث جدید مالیکیولر بائیولوجسٹس نے ایک جاندار کے جینز لے کر انہیں دوسرے جاندار میں داخل کر کے ان سے کام لینا چاہا ۔ معلومات کا تبادلہ ، کرنے کے لِئے بڑی سمجھ کی ضرورت ہے ۔قدرتی عوامل معنی خیز معلومات رکھنے والے جاندار کو نہ تو پیدا کر سکتے ہیں اور نہ ہی ابھی تک کر سکےہیں۔

12617-dogs
افزایشِ نسل سے جانداروں کی اقسام تو پیدا ہوتی ہے لیکن اِس کے زیرِ اثر ایک کُتا/بھیڑیا کِسی نئی قِسم کے جانور میں تبدیل نہیں ہوسکتا۔

3۔ ۔میوٹیشنز؟

میوٹیشنزـــــجینز کی معلومات میں بے ترتیب تبدیلی ہےـــــــیہ معلومات نئی خصوصیات کو پیداکرتی ہیں جیسا کہ ٹانگیں ،پّر، دماغ،آنکھیں وغیرہ ۔تا ہم بے ترتیب تبدیلیاں معنی خیز 'پیراگراف 'یاِ'باب' میں تبدیل نہیں ہوسکتیں۔ وہ صرف اسے بگاڑتے ہیں میوٹیشنز صِرف تباہی برباکرتی ہے نہ کہ کِسی کام کی چیز کو تشکیل دیتی اور انسانوں میں مختلف بیماریوں کا سبب بھی بنتی ہیں (مثلاً کینسر) بیکٹیریا میں ادویات کے خلاف مزاحمت میوٹیشن کے باعث ہونے والی تبدیلیاں کی وجہ سے نہیں کم ہوجاتی ہے ۔میوٹیشن کی تمام تر تعلیم میں میوٹیشن صِرف خرابی ہی پیدا کرتی ہےـــــمثلاً انزائم جو پینسلین کو ہضم کرتا ہے ،جب اِس کی پیدا وار کا کنڑول ختم ہوجاتا ہے تو اِس انزائم کی پیدا وار میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔کبھی کبھار معلومات کسی اور بیکٹیریا سے آتی ہے جو وصول کنندہ کو ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے کے قابل بناتی ہے میوٹیشن کبھی بھی ایسی معلومات پیدا نہیں کر سکتی جس سے ارتقاء کا مرحلہ آگے بڑھ سکے۔1 مذید یہ کہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہر جاندار کے پیچیدہ عضوموجود ہیں جو ہر حال میں اپنے افعال سر انجام دیتے ہیں اور سادہ اور بے کار نہیں ہو سکتے۔2 یہ نامُمکن ہے ہے کہ یہ مختصردور ، میوٹیشنز اور نیچلرل سیلیکشن ایک ایسے نظام کو تشکیل دے سکے ، کیونکہ ان مراحل کا ایک منظم نظام تشکیل دے سکے ۔ مثال کے طور پر بیکٹیریا کا فلیجلہ،خون روکنے کا نظام ،اے ٹی پیز،موٹر ، سیل میں رابطہ کا نظام ، ڈی این اے میں پروٹینز کی پیدا وار کے لیے معلومات وغیرہ ۔

12617-flagellum
بیکٹیریل فلیجلم ایک روٹری موٹر مرحلہ وار تبدیلی کے باعث وجود میں نہیں آیا ۔

4۔ فوسلز۔

فوسلز ہرگِزاِس بات کی تصدیق نہیں کرتے کہ ایک جاندار دوسرے میں تبدیل ہو گیا ۔ اگر اِرتقاء کا عمل وجود میں آیا ہوتا تو اشکال کا بدلنا بھی ضروری تھا۔ لیکن اس میں بھی بہت سے افراد کے متنازع بیان موجود ہیں فوسلز کے مختلف دعویٰ جس میں مختلف جانداروں کو فوسلز کے ساتھ منسلک کیا گیا اس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ،3 برطانیہ کے قدرتی تاریخی میوزیم کے ڈاکٹر کولن پیٹرسن نے کہا ،ایک بھی چیز ایسی نہیں ۔۔۔جس کے بارے میں آپ کوئی ٹھوس مثال دے سکیں ؛4 مزید یہ کہ فوسل ریکارڈ میں ہزاروں مخلوقات ایسی ہیں جو آج بھی موجود ہیں۔جیلی فِش،سٹار فِش،اور سیلز مثال کے طور پر ان کے فوسلز جو آج ہم سمندروں کی چٹانوں میں پائے جاتے ہیں ۔ یہ آج بھی سمندروں میں زندہ پائے جاتے ہیں۔ جانداروں کی نسل، اُن ہی کے موافق ہے۔

12617-starfish

5۔ زمین کی عمر۔

زمین کی عمر کے حوالے سے کہانی بہت طویل ہےتاہم،فوسلز عام طور پر اِن شواہد کو ظاہر کرتے ہیں ۔جو پانی میں تیزی دفن ہونے کے باعث مٹی بھی ساتھ لے گئے۔۔۔ جیسا کہ عظیم سیلاب میں ہؤا۔نتیجتاً،چٹان کی تہیں جن میں یہ فوسلز موجود تھے وہ آہستہ سے نہ بیٹھی۔۔۔ اِس لِئے فوسلز ہزاروں سال کی بنیاد کو اتنی واضح طور سے بیان نہیں کرتے جیسا کہ آج بائبل ہمیں سکھاتی ہے۔ بائبل عالمی سطح پراُس عظیم سیلاب کے بارے میں بتاتی ہے ،اور اُن لوگوں کے بارے میں بھی جن کی اِس طرح کے سیلاب سے متعلق خود اپنی بنائی ہوئی ہیں ۔ایک عالمی سطح کے سیلاب نے ،پانی کی ایک بڑی مقدار کے ساتھ ریت اور مٹی سے پودوں اور جانوروں کو اپنے اندر دفن کرتے ہوئے فوسلز کی چٹانوں میں تہوں کو تشکیل دیا ہو گا ۔۔۔ اور یہ سب بہت جلد ہوا ۔۔اور مزید یہ کہ، کائنات کی وسیع عمر کے خلاف بہت سے مختلف ثبوت موجود ہیں مثال کے طور پر ،براعظموں کا برباد ہونا، زمین کی میگنیٹک فیلڈ میں کمی، ماحول میں ہیلیم کی کمی،زمین پر لوگوں کی تعداد کا بڑھنا ،تاریخ کے ریکارڈ کی خرابی ،سپائرل گلیکسی کا تسلسل، ٹائپ2 سُپر نووا کی تعداد میں کمی اور ٹائپ 3سُپرنووا کی ہمارے کہکشاں میں کمی،اور مختصر مدت کے لِئے کومِٹ کی موجودگی اور بہت کچھ ۔

12617-saturn
مشتری سیارے کے گِرد گول چکر، پُرانے زمانے کے شواہد کے خلاف ہے، کیونکہ وہ تیزی سے تباہ ہورہے ہیں۔

تو پھر شائد کوئی اس بات کو سوچےکہ اتنے پڑھے لکھے لوگ ارتقاء پر یقین کیوں نہیں رکھتے؟ لوگ ارتقاء پر یقین رکھتے اور تخلیق کا انکار کرتےہیں کیونکہ:

  1. ۔وہ حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں،اور صرف ارتقاء کی سُنی سنائی باتوں پر یقین رکھتے ہیں ۔بہت سے لوگ ایسے ہیں۔
  2. ۔وہ جان بوجھ کراپنی زندگیوں میں خدا کے مقام کا انکار کرتے ہیں خدا نے ہمیں بتایا ہے کہ ہم میں سے کسی کے پاس بہانا /عزر نہیں،کیونکہ سچائی عین ہمارے ناک کے نیچے ہے صرف اِسکا اِقرار کنے کی ضرورت ہے (رومیوں 1

مماثلت؟5

ہم باقی جانداروں سے کافی حد تک ملتے جلتے ہیں،خاص طور پر،بن مانس کے،اسی لِئے ہم بن مانس کے ساتھ تھوڑی بہت مُشابہت رکھتے ہیں؛شاید ہمارے آباؤاجداد بھی ایک ہی رہے ہونگے۔

بائبل کیا بیان کرتی ہے؟پیدائش1 باب میں ہم نے سیکھا کے خدا نے اِنسان کو خصوصاً مرد اور عورت پیدا کیابنایا:

"پھر خدا نے کہا کہ ہم اِنسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اورآسمان کے پرندوں اور چوپایوں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اختیار رکھیں۔" (پیدائش1:26)

خدا نے اِنسان کو اپنی شبیہ پر پیدا کیا،نہ کہ جانور کی شبیہ پر۔مزید یہ کہ اِنسان تمام جانداروں پر فضیلت رکھتا ہے اور یہ سب جانداروں پر غالب ہے۔

پیدائش باب 2میں،ہمیں پیدایش کے عمل کی مزید تفصیلات ملتی ہیں ہم جانتے ہیں کہ آدم کو زمین کی خاک سے پیدا کیا گیا (پیدائش2:7)۔ جب خدا نے آدم پر سزا کو عائد کیا۔اُس نے تصدیق کی کہ آدم کو خاک سے پیدا کیا گیا۔

"تُو اپنے منہ کے پسینے کی روٹی کھائیگا جب تک کہ زمین میں تُو پھر لَوٹ نہ جائے اِسلئے کہ تُو اُس سے نِکالا گیا ہے کیونکہ تُو خاک ہے اور خاک میں پھر لَوٹ جائیگا" (پیدائش3:19)

کچھ لوگ اِنسان کی پیدائش کو حالیہ ارتقائی عمل سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ اِنسان کو بن مانس کے ساتھ منسلک کر سکیں۔یہاں اُن کا پتہ چلتا کہ اگر آدم جو خاک ہے، بن مانس ہے نکلا ہوتا،تو آدم یقیناً اپنے گناہوں کے سبب دوبارہ بندر بن جاتا!بالکل نہیں کیونکہ بائبل نے صاف لفظوں میں بیان کیا ہے کہ آدم ایک خاص مخلوق ہے۔

بے شک خُدا نے تمام جانوروں اور پودوں کی مختلف اقسام انفرادی طور پر پیدا کیا نہ کہ صرف اِنسان ہی کو۔پودے "اپنی قسم کے بیج"پیدا کرتے ہیں اِسکا مطلب ہے،لوبیے کا پودا لوبیے کے پودے کو پیدا کریگا؛اور ایک بھیڑ ایک بھیڑ کو ہی پیدا کریگی(پیدائش1:11،12،21،24،25)۔بائبل میں کسی بھی جگہ اس بات کی تصدیق نہیں مِلتی کہ ایک جاندار اِرتقاء کے عمل سے گُذر کر دوسرے جاندار میں تبدیل ہو جائے۔

ارتقا و پسند نہ صرف اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اِنسان بن مانس جیسی ایک مخلوق سے پیدا ہوا،بلکہ اُنکا ماننا ہے کہ ہر چیز ایک سیل پر مشتمل جاندار سے پیدا ہوئی ،جو خُود بے جان مادہ سے بنا ہو وہ اِس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ جانداروں کی مماثلت اِس بات کا ثبوت ہے کہ اِن سب کے اباؤاجداد ایک ہی ہیں،وہ اِنسان اور بن مانس کے ڈی –این- ایز کی مماثلت کو ظاہر کرتے ہیں،ایمبروز میں مماثلت،ویسٹیمل آرگنز اور مختلف اقسام کے فوسلز کی منتقلی کے دعویٰ کرتے ہیں ،فرضی بندر نما انسان۔

کیا اِنسان/بندر کے ڈی -این -اے کی مماثلت ارتقائی رشتے کی بنیاد ہے؟

انسانوں اور بندروں کے ڈی –این- ایز کی100 فیصد مماثلت پر اکثر ہی زور دیا جاتا ہے۔ابتدائی تعلیم میں جب بنیادی ٹیکنیک اور جنیٹک کوڈ کی معلومات محدود تھی ،جسکے ذریعے٪97 سے٪99 مماثلت کا دعویٰ کیا گیا،کہانی بتانے والے پر مُحصر ہے۔تاہم جب بن مانس کے ڈی -این -اے کو کھولا گیا،تو مماثلت شرع6٪87 اور ممکنہ طور پر7٪70 سے بھی کم۔تو جیسے جیسے مزید معلومات کا حصول ہؤا ،تو اِن ناپائیدار شواہد جن کے مُطابق ہم شاید بن مانس کی نسل سے نکلے ہیں،کا خاتمہ ہؤا۔

12617-cars
ایک خالق کی مماثلت کا بیان۔

تاہم،مماثلت ایک جیسے والدین ہونے کی شہادت نہیں دیتی،بلکہ ایک خالق کا دعویٰ کرتی ہے(پیدائش)اصل یورپی اور والسویگن'بیٹل' کار کو دیکھیں۔دونوں میں بہت سی مماثلت ہے مثلاً ؛ ہوا ٹھنڈی ہوتی ہے،دونوں چپٹی،افقی طور پر مخالف سمت،پیچھے جا رسیلنڈروالاانجن ،اپے آپ ھوئیں کی معطلی،دو دروازے سامنے ڈِگی وغیرہ۔

اِن دو مختلف گاڑیوں میں اتنی مماثلت کیوںپائی جاتی ہے؟کیونکہ ان کا بنانے والا ایک ہی ہے۔چاہے یہ مماثلت ظاہری(شکل و صورت)یا پوشیدہ ہو،پیدایش اور ارتقاء کے درمیان کِسی قِسم کی بحث ممکن نہیں۔اگر انسان باقی تمام جانداروں سے محتلف ہوتا،یا اگر تمام مخلوقات ایک دوسرے سے مختلف ہوتیں،تو کیا یہ ہمارے خالق کو ہم پر ظاہر کرتا؟نہیں،ہم سوچ سکتے تھے کہ یہاں ایک کے بجائے بہت سے خالق ہونگے۔تخلیق کا یہ اتحاد اِس بات کی گواہی دنیا ہے کہ صرف ایک ہی خدا ہے جس نے تمام چیزیں پیدا کیں(رومیوں1:20

اور اگر اِنسان تمام جانداروں سے مختلف ہوتا،تو ہم کیسے جی سکتے تھے؟ہمیں خوراک اور طاقت حاصل کرنے کے لیے دوسرے جانداروں پر مُنحصر ہے۔ہم کھانے کو کیسے ہضم کرتے اور امائنوایسڈز،شوگر وغیرہ کو کیسے استعمال میں لاسکتے تھے،اگر یہ اُن سے مختلف ہوتے جو ہمارے بدن میں ہے؟ہمیں خوراک حاصل کرنے کے لیے بائیوکیمکلز کا ایک جیسا ہونا بہت ضروری ہے۔

سیل کے ڈی -این -اے میں ایک جاندار کی نشونما کے لئے بہت سی معلومات موجود ہوتی ہیں،تو ہم اُنکے ڈی -این -اے میں بھی مماثلت کو تسلیم کرتے ہیں۔ایک گائے اور ایک وھیل مچھلی جو دونوں میملز ہیں،اِنکے ڈی -این –ایز ایک گائے اور کیڑے کے ڈی -این –ایز سے زیادہ مماثلت رکھتے ہیں۔اگر ایسا نہ ہوتا تو،ڈی -این -اے کی ایک جاندار میں معلومات رکھنے کی حیثیت پر سوال اُٹھایا جاتا۔

ایک قسم کے جانداروں کے ڈی -این -ایز بائیوکیمکلی طور پر زیادہ مماثلت رکھتے ہیں۔جس مین بہت سی تبدیلیاں بھی رونما ہوئیں ہیں،بے شک،تخلیقی ارتقاء پرست ڈی -این -اے کے موازنہ کا ایک ہی قسم کے جاندار کو پڑھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔8

اِنسان اور بن مانس ظاہری طور پر ایک جیسے ہیں،اور اِن کے خمیر میں بھی کچھ حد تک مماثلت پائی جاتی ہے،مثال کے طور پر اِنسانوں میں بھی۔

کیونکہ انسانی سیلز بھی وہ تمام کام کرسکتے ہیں جو ایک خمیر(بُنیادی) بھی کرسکتا ہے،ہمارے اور خمیر کے سیلز میں پروٹین اور ائنزایمز کی پیداوار کے لئے ڈی -این -اے کے جنیٹک کوڈ کی ترتیب ایک جیسی ہوتی ہے ،کچھ ترتیب،مثال کے طور پر کرموسومز کی ساخت کے لئے پروٹین کا کوڈ،تقریباً ایک جیسا ہے۔

12617-dna

اگر انسان اور بن مانس کا ڈی ای اے ٪98 مماثلت رکھتا تو کیا ہوتا؟اِسکا کیا مطلب ہے؟کیا اِس سےمراد یہ ہے کہ ان کے آباؤاجداد بن مانس میں سے ہیں۔بالکل نہیں۔ڈی -این -اے کی ہدایات چار کیمیکلز C,G,A,Tکمپاونڈز کی ترتیب ہے،جنہیں مختصرً نیوکیوڈائڈزکہا جاتا ہے۔ایک وقت میں تین کیمکل'حروف'کے لئے ایک گروپ کو'پڑھا'جاتا ہے،اور ترجمہ کرنے والی ایک پچیدہ مشین امائینوایسڈ کی ترتیب کو پڑھتی ہے،اِن گروپس کی 20 مختلف اقسام ہیں،جو پروٹینز بناتی ہیں۔اِنسانی ڈی- این -اے میں تین ارب نیوکلیوٹائڈ ز کے بیس پیئرز میں موجود ہدایات کا موازنہ 500صفحات پر مشتمل 91،000 کتابوں سے کیا جاسکتا ہے،اگر انسان٪2 بھی مختلف ہوتے تو پھر بھی اِس میں60ملین بیس پیئرز پر مُشتمل بیس بڑی کتابوں کے برابر ہدایات موجود ہوتیں ۔تاہم ایسے میں میوٹیشن کا ہونا نا ممکن ہے،اور ایسا ممکن ہونے کےلئے لاکھوں سال درکار ہیں،

کیا مماثلت کی زیادہ شرح سے مراد یہ ہے کہ دوڈی -این –ایز کی ترتیب کے افعال بھی ایک جیسے ہونگے؟نہیں،ضروری نہیں۔مندرجہ ذیل جملوں کا موازنہ کریں:

  • There are many scientists today who question the evolutionary paradigm and its atheistic philosophical implications.
    (آج کل بہت سے سائنسدان ارتقائی نمونے اور اسکے بے دین فلسفیانہ اثرات پر سوال اٹھاتے۔)
  • There are not many scientists today who question the evolutionary paradigm and its atheistic philosophical implications.
    (آج کے زمانے میں اُن سائنسدانوں کی تعداد کُچھ زیادہ نہیں جو ارتقائی نمونوں اور اِسکی ناخدائی کے فلسفہ پر سوال اُٹھائیں۔)

یہ جملے٪97 ایک جیسے ہیں لیکن اِن کے معنی بالکل مختلف ہیں ایک مضبوط تعصب یہ ہے کہ ڈی –این- اے کی ایک بڑی ترتیب سی ترتیب کو خراب کرسکتی ہے۔بے شک انسان اور بن مانس ایک طویل جنسی کنٹرول کے سلسلے میں دریافت ہوا۔10

جو ڈی- این -اے جنسی پیدایش کے دوران ترتیب پاتے ہیں اُن میں زرا بھی مُشابہت نہیں پائی جاتی ،وائے-کروموسومز بالکل مُختلف ہے،جو صِرف اِنسان (مرد) میں موجود ہے نہ کہ بن مانس میں۔

ایسا کوئی بھی ذریعہ نہیں جس میں میوٹیشن کے ذریعہ بن مانس اور اِنسان کے درمیا ن کا فرق ختم ہوسکتا۔بن مانس محض جانور ہیں ۔جبکہ ہم اِنسانوں کو خُد اکی صورت پر بنایا گیا (کوئی بن مانس اِسے نہ تو پڑھے گا اور نہ ہی ایک دوسرے سے اِس کے بارے میں بات چیت کرینگے)

ایمبریوز میں مُماثلت

پہلے لوگوں کا خیال تھا کہ اِنسانی ایمبریوز،حمل میں نشونُما پانے کے دوران مُختلف اِرتقائی مراحل سے گُذرتا ہے،مثلاً مچھلی کی طرح کے گِل سلِٹس کا موجود ہونا،بن مانس کی طرح دُم کا موجود ہونا وغیرہ ۔اِسقاطِ حمل کے کلینکس لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کرتے ہیں کہ ،ہم تو صِرف ایک مچھلی کو آپکے بدن سے نِکال رہے ہیں۔

اِس نظریہ کو 'بائیوجنیٹک 'کے قانون کے نام سے جانا جاتا ہے ،اِسے جرمن کے اِرتقاء پسند ارنسٹ ہیکل نے 1860 کی دہائی کے آخری حِصہ میں متعارف کرایا۔اِسے 'ایمبریوِنِک ریکیپیٹیولیشن' یا 'اونٹوجینی ریکیپیٹیولیشن فائلوجینی'کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،جِسکا مطلب ہے کہ ایک جاندار کی نشونُما کے دوران یہ اپنی تاریخ کو دہراتا ہے۔اِسی لِئے،یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اِنسانی ایمبریو فِش سٹیج ،ایمفیبیئن سٹیج ،رپٹائیل سٹیج وغیرہ سے گُذرتا ہے۔

1868ء میں ہیکل کے فلسفہ کی اِشاعت کے کُچھ ہی عرصے بعد ، یونیورسٹی آف باسل سے زولوجی اور کمپیریٹوَ اناٹامی کے پروفیسر ایل- روٹیمئیر نے اِس نظریہ کی تردید کی۔لیپزگ یونیورسٹی کے اناٹامی کے پروفیسر ، اور ایک مشہور کمپیریٹو ایمبریولوجِسٹ نے بھی ایل -روٹیمئیر کی اِس تردید کی حمایت اور تصدیق کی۔11 ان سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہیکل نے بڑی چالاکی سے اِن ایمبریوز کو اِس طرح سے ظاہر کیا کہ وہ ایک جیسے دِکھیں۔ہیکل نے بہت بار اِن ایمبریوز کی مُماثلت کو ظاہر کرنے کے لِئے خاکے بنائے،اور پھِر دعویٰ کیا کہ یہ مُختلف سپیشیزکے ایمبریوز ہیں!اِن سب اِنکشافات کے باوجود ، ہیکل کے یہ خاکے کافی سالوں تک نصابی کُتب میں دیکھے گئے۔12

کیا "بائیوجنیٹک قانو ن" کا کوئی میرٹ ہے؟ 1965 ء میں،ارتقا ء پسند جیورج گیلورڈ سِمپسن نے کہا، "اب میں یقینی طور پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ اونٹوجینی (وجودیات) فائلوجینی (نسل) کو دہراتی نہیں۔"13 پروفیسر کیتھ تھومپسن نے کہا:

"یقیناً بائیوجینیٹک قانون اتنا ہی مُردہ ہے کہ جتنا ایک دروازے کا ایک کیل۔آخرکار اِسے 50 کی دہائی میں ٹیکسٹ بُک سے خارج کردیا گیا۔اور بیس کی دہائی میں اِسے نظریاتی انکوائری کے مضمون کے طور پر بالکل ختم کردیا گیا۔"14

تاہم ،1990 میں بھی ہیکل کی اِس تصوراتی تصاویر کا اِستعمال کیا گیا،اور اِسے بہت سی یونیورسٹیز میں بائیولوجی کے تعارف کے طور پر نصاب کا حِصہ بنایا گیا ، جِسکے مُطابق

"بہت سے معاملات میں کِسی جاندار کی ارتقائی تاریخ کو اُسکی نشونُما کو دیکھ کرجانچا جاسکتا ہے ،جس میں ایک ایمبریو کی خصوصیات اُسکے اباؤاجدادکی سی ہوتیں ہیں۔مثال کے طور پر نشونُما کے ابتدائی مرحلے میں،اِنسانی ایمبریو کی مچھلی کے گِلز موجود ہوتے ہیں۔۔۔۔"15

اِس نظریہ کی ناقص بُنیاد اور عظیم سائنسدانوں کی تنقید اور تردید کے باوجود یہ نظریہ قائم رہا۔

12617-babes
اِنسانی ایمبریو کی نشونما کی مُختلف سٹیجز۔

وہ سائنسدان جنکو 1990 کی دہائی میں ایمبریونک ریکیپیٹیولیشن کے خیال کو فروغ دینا چاہیے تھا۔مثلاً ، سائنس کو فروغ دینے والے ، لیٹ کارل ساگن ، نے اپنے مضمون کا موضوع یہ ہے کہ ''کیا پہلے سے زِندہ ہونا اور پہلے ہی سی انتخاب کرنا مُمکن ہے؟ اِنسانی ایمبریو کی نشونما کی وضاحت مندرجہ ذیل ہے:

"تیسرے ہفتہ تک ۔۔۔یہ ایک کیڑے کے جیسا لگتا ہے جسکے جسم کے بہت سے حِصے ہوں۔۔۔چوتھے ہفتہ کے آخر تک،۔۔۔فِش اور ایمفیبیئن کی طرح گِلز کا نمودار ہونا۔۔۔یہ کِسی مینڈک کے لاروے کے جیسا لگتا ہے ۔۔۔چھٹے ہفتہ تک۔۔۔رپٹائیل کا چہرہ ۔۔۔ساتویں ہفتہ کے آخر تک ۔۔۔چہرہ میملز کی طرح کا لگتا ہے ،یا شاید سور کی طرح،۔۔۔آٹھویں ہفتے کے آخر تک ،پرائمیٹ کی شکل لیکن ابھی بھی یہ اِنسان کے جیسا نہیں لگتا۔"16

ہیکل کی بات سے یہ صاف ظاہر ہے کہ ایک اِنسانی ایمبریو کبھی بھی رپٹائیل یاسور کی طرح نہیں دِکھ سکتا ۔انسانی ایمبریو جب سے حمل میں موجود ہوتا ہے ایک انسان ہی بنتا ہے؛یہ کوئی اور چیز نہیں بن سکتا،اِسکے برعکس جیسا ساگن نے کہا !یہ اچانک آٹھ ہفتوں بعد اِنسان نہیں بنتا۔بائبل بھی بیان کرتی ہے ــــــ وہ بچہ جو ابھی پیدا نہیں ہوا ایک چھوٹا اِنسانی بچہ ہے۔ (پیدایش22تا25:21 ، زبور16تا139:13 ، یرمیاہ 1:5 ، لُوقا44 تا1:41)،اِسطرح اِسقاطِ حمل بے قصور اِنسان کی جان لیتا ہے۔

گِل سلِٹس ـــــــ کُچھ مچھلی جیسا ہے؟

12617-baby
اِنسانی ایمبریوز کو ارتقائی سوچ میں استعمال کے کا غلط رجحان۔

یونیورسٹیز کی نصابی کُتب درج بالا17 دعویٰ کی حمایت کرتیں ہیں "اِنسانی ایمبریو مچھلی کی طرح گِل سلِٹس رکھتا ہے'' ، اگرچہ بہت سی دہائیوں تک یہ جانا جاتا تھا کہ اِنسانی ایمبریو کے گِل سلِٹس نہیں ہوتے ۔یہ اِنسانی ایمبریوز پر محض نِشانات ہوتے ہیں جو بظاہر دیکھنے میں مچھلی کے گِلز کی طرح لگتے ہیں۔اِن'گلے کے نشان ' کو تھروٹ پاؤچز بھی کہا جاتا ہے؛اِن کا نہ تو سانس لینے سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی یہ جِسم پر کوئی سوراخ ہیں۔یہ تھروٹ پاؤچز تھائمس گلینڈ،پیراتھائروڈ گلینڈز اور مِڈل ائیر بناتے ہیں ــــــــ اور اِن تینوں میں سے کِسی کا بھی سانس لینے میں کوئی کردار نہیں،نہ تو پانی کے اندر اور نہ ہی پانی کے باہر!

ایمبریولوجی کی نصابی کُتب میں اِس بات کی وضاحت کی گئی کہ اِنسانی ایمبریو میں سلِٹس موجود نہیں ہوتے مثلاً ، لینگمِن نے کہا

"کیونکہ اِنسانی ایمبریوز کے گِلز نہیں ہوتے ـــــــ اِس کتاب میں فرنگیل گِلز کا نام اِستعمال کیا گیا۔"18

تاہم ،بہت سے ارتقاء پسند ،اِجتماعی طور پر طلباء کو پڑھاتے وقت لفظ 'گِل سلِٹس ' کا اِستعمال کرتے ہیں۔یہ نام سکولز اور یونیورسٹیز کی ٹیکسٹ بُکس میں عام طور پر اِستعمال کیا جاتا ہے۔

ہیکل کے دھوکہ کی مذید وضاحت!

ارتقاء کو ماننے والوں پر سختی کی جائے تو وہ کافی حد تک اِس بات کو مان سکتے ہیں کہ ہیکل کی تصاویر کافی حد تک جھوٹ پر مبنی ہیں، لیکن پھِر بھی وہ اِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایمبریوز کی مماثلت ارتقاء کا ثبوت ہے۔لیکن یہ اعتماد نصابی کُتب میں ہیکل کی شائع کی گئے خاکو ں کو زیادہ پائیدار بناتا ہے۔19 لیکن بظاہر کوئی شخص بھی اِس پر تنقید کرنے کی تکلیف نہ اُٹھائے گا۔

12617-embryos
ہیکل کےبےمعنی خاکے(اُوپر والی قطار)اور اصل ایمبریو کی تصاویر(نِچلی قطار)20 ریچرڈسن کی اجازت سے استعمال کیا گیا۔

اب یہ ظاہر ہوا کہ ریچرڈ کادھوکہ سب سے سنگین ہے ۔ڈاکٹر مائیکل ریچرڈسن ،جو ایک ایمبریولوجسٹ ہیں ، اُنہوں نے دُنیا بھر کے بائیولوجسٹس کے تعاون سے ہیکل کی ایمبریوز کے تصوراتی خاکوں کو اکٹھا20 کیا۔ڈاکٹر ریچرڈسن نے دیکھا کہ ہیکل کے خاکے ایمبریوز کے ساتھ کم ہی مُشابہت رکھتے ہیں۔22،21 ہیکل کی ڈرائنک محض اُسکے تصور کی ایجاد ہے ،جس نے ارتقاء کو ماننے کے 'ثبوت'کو فروغ دیا۔

کیا ابتدائی ایمبریوز کی مُماثلت حتمی ہے؟

کِسی چیز کی تعمیر سے پہلے ،ایک بینادی خاکہ بنایا جاتا ہے اور پھِر اِسکی تعمیر کا کام شروع کیا جاتا ہے۔یہاں پر ایک کُمہار کی مِثال کی مدد لی جاسکتی ہے۔کُمہار گُندھی ہؤئی مٹی سے شروعات کرتا ہے۔ایک گول یا لنمبے گُلدان کو بنانے سے پہلے کُمہار مٹی کو گوندھتا ہے ۔اِس مرحلے پر گول یا لنمبا گُلدان ایک سا لگتا ہےــــــــ اگرچہ اِن دونوں کا اِستعمال ایک ہی ہے۔اِن پر مذید کام کرکے اِنہیں ایک دوسرے سے مُختلِف بنایا جاتا ہے ۔اِسطرح ایمبریوز کی مُشابہت بھی ختم ہوجاتی ہے کہ کِس طرح کُمہار اپنے ارادے کو تبدیل کرکے برتن کو گول یا لنمبا بناتا ہے۔تاہم ، ایک مچھلی کا ایمبریو اِنسان نہیں بن سکتا (اور نہ ہی اِنسان کا ایمبریو ایک مچھلی میں تبدیل ہو سکتا ہے) کیونکہ ایک مچھلی کے ایمبریو میں صِرف مچھلی کو بنانے کی ہدایات موجود ہوتی ہیں۔

وان بیئر کے قانو میں اِن اصولو ں کو ایمبریو کی نشونما کے حوالہ سے ظاہر کیا گیا ہے۔ایمبریو کے ابتدائی مرحلے میں بہت سے جانداروں کی بُنیادی خصوصیات اُنکی خاص خصوصیات سے پہلے وجود میں آتی ہیں۔غیر معمولی خصوصیات کی تخلیق کا آغاز ہمیشہ عام خصوصیات ہی سے ہوتا ہے،اور یوں ایک خاص چیز وجود میں آتی ہے۔ہر سپیشی کا ایمبریو ،دوسرے جانداروں کے ایمریونِک مرحلوں سے گُذرنے کے بجائے ،جیسے جیسے بڑھتا ہے اُس سے الگ ہوتا جاتا ہے۔

وان بیئر کے قانون کے مُطابِق ایمبریوز ابتدائی مراحل میں ،دوسرے آرگنزمز کے ساتھ اِسلِئے ملتے ہیں کیونکہ اُنکی بُنیادی خصوصیات جو پہلے پہل ظاہر ہوتی ہیں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔نشونما کے تسلسل کو ہم پہیے کے سیوگ کے ساتھ مُنسلک کرسکتے ہیں۔سیوگ ہب سے شروع ہوکر باہر کی طرف نکلتا ہے ،اور آگے مزید علیحدہ ہوتا جاتا ہے۔

پیدایش سے مُطلق بے قائیدگی!

وان بیئر کے قانون میں ایک دلچسپ حقیقت موجود ہے ۔اگر ہم ورٹیبریٹ کے ایمبریوز کی فرنگیولاسٹیج کو دیکھیں (مثلاً وہ مرحلہ جب اِس میں فرنگیل کلیفٹ دِکھائی دیتے ہیں)،یہ تقریباًایک جیسے دِکھتے ہیں،لیکن شروع کے مرحلے میں یہ ایک دوسرےسے بالکل مُختلف ہیں!بالارڈ نے کہا۔

"۔۔۔مختلِف اِیگز میں ورٹیبریٹس کے ایمبریوز کلیویج کے مرحلے سے گُذرتے ہوئے مُختلف اشکال بدلتا ہے،اور پھِر ہر گروپ اپنے مخصوص ظاہری حالت کو اِختیار کرتا ہے اور تمام فرنگیولا سٹیج پر پہنچتے ہیں ،جو حیرت انگیز طور پر سب فائلم میں ایک جیسی سٹیج ہے،جس میں ایک جیسے عضو پائے جاتے ہیں جو تقریباًایک ہی طرح کی ترتیب رکھتے ہیں(جو شاید خوراک یا رہائش کے زیر اثر خراب ہو جائیں)۔"23

12617-arms
اِنسان اور مینڈک کے بازو اور ٹانگوں کی ساخت کافی حد تک ملتی جلتی ہے، لیکن ہاتھ اور پاؤں کی بناوٹ مُختلف ہے۔

ایک جگہ اکٹھے،ہونے کے بعد،تمام ایمبریوز وان بیئر کے اصول کے مطابق بِکھر جاتے ہیں۔اِسکی وضاحت ارتقاء کے ساتھ کیسے کی جا سکتی ہے۔ریمائن24 بحث کرتا ہے کہ یہ ایک قابلِ کاریگرر کی نشاندہی کرتا ہے جس نے تمام جانداروں کوتخلیق کیا۔ خدا نے ان چیزوں کو یکساں بنایا یہ بتانے کے لِئے کہ ایک خالق ہے(فزنگیولا سٹیج پر مماثلت)،لیکن مماثلت کی طرز پر وہ ایک ہی آباؤاجداد سے خالق نہیں ہوئے(ایمبریو کی نشونما کا ابتدائی مرحلہ مختلف ہے) ۔ابتدائی مرحلے میں اختلافات کے بعد کے فرنگیل سٹیج کی مماثلت کی تصدیق نہیں کرتا۔

اِسی طرح ،میمل اور ایمفیبین میں پاؤں کی ہڈی کا بننا کافی حد تک ایک جیسا ہوسکتا ہے،لیکن ایمفیبین کے پاؤں باہر کی طرف اُبھرے ہوتے ہیں جبکہ میمل کے پاؤں چپٹے ہیں جہاں مادہ پاؤں میں حل شدہ ہے۔اسلئے میملز اور ایمفیبنز میں مفاہمت ایک خالق کی وجہ سے ہے نہ کہ ایک ہی آباؤاجداد کی وجہ سے۔

سر گاوِن ڈی بیئر،برطانوی قدرتی تاریخ کے عجائب گھر کے ڈائریکٹر اور ایمبریولوجسٹ،نے چالیس سال سے زیادہ عرصے تک ایک مسئلہ کی نشاندہی کی جسکے مونوگراف کا عنوان یکسائی،ایک غیر حل شدہ مسئلہ ہے (1971،آکسفرڈ بائیولوجی کی پڑھنے والے،آکسفرڈ یونیورسٹی پریس)۔ اگرچہ ڈی بئیر ارتقاء پر ایمان رکھتا ہے،اُس نے دیکھایا کہ یہ مماثلت صرف ظاہری ہے اور ایک وہی آباؤاجداد سے مطابقت نہیں رکھتے۔

ایمبریو کی نشونما پیدائش کو ظاہر کرتا ہے،نہ کہ ارتقاء کو!بے شک ہمیں'عجیب و غریب طور سے پیدا کیا گیا' (زبور139:1425

بیکار عضو؟

ارتقاء پسند اکثر بحث کرتے ہیں کہ نا اُڑسکنے والے پرندے،چھوٹے پر،سوز،پاؤں،آدمیوں کی چھاتی،بغیر ٹانگوں کے چھپکلی،خرگوش کا نظامِ انہظام،انسانی اپینڈکس،بڑی مچھلی کی پیٹھ کی ہڈی یہ سب بیکار ہیں اور ان کا کوئی کام نہیں۔اُنکا دعویٰ ہے کہ یہ ارتقاء کے باقیات ہیں اور اِرتقاء کے شواہد ہیں۔

'ویسٹجیل' آگن ارتقاء کی غیرمعیاری بحث ہے۔

پہلی بات،یہ ثابت کرنا ممکن نہیں ہے کہ آرگن بیکار ہوتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اِسکا کردار نہ معلوم ہو اور اِسکا استعمال مستقبل میں مل جائے۔اِیسا کوئی100 سے زائد اِنسانی آرگنز کے ساتھ ہوا ہے جو پہلے بہکار سمجھے جاتے تھے لیکن اب وہ بہت ہی ضروری سمجھے جاتے ہیں۔

دوسرا یہ کہ اگر ویسٹیجیل آرگن کی مانند ضرورت ہوتی ہے،تو یہ 'وراثت'کو ثابت کرتا ہے ناکہ 'ارتقاء'کو۔پیدائش کا نمونہ زوال کے آغاز سے کامل پیدائش کی تنزلی کو ظاہر کرتا ہے۔تاہم،پارٹیکل سے آرگن کی وضاحت طلب کرتا ہے۔مثلاً وہ جو پچیدگی میں بڑھتے ہیں۔

اُن پرندوں کے پر جو اُڑتے ہیں؟

نہ اُڑنے والے پرندے شترمرغ اور آسٹریلوی شترمرغ میں پروں کے موجود ہونے کی دو وجوہات موجود ہوسکتی ہیں:

تصویر پیش کی گئی Amanda Greenslade12617-emu-new
آسٹریلوی شُتر مُرغ کے پّر بے مقصد نہیں۔
  1. بیشک اِن میں پّربے فائدہ ہیں اور اُن پرندوں میں پروں والے پرندوں سے اخز ہؤا۔یہ پیدائشی نمونہ میں ممکن ہے۔قدرتی عمل کے باعث ہو سکتاہے کہ کچھ عضو ختم ہو جائیں،جبکہ نئی خصوصیات کا حصول،مخصوص ڈی -این- اے کی اہم معلومات کے حصول کی ضرورت،ناممکن ہے۔اُن بھونروں کی سپیشی کے ختم ہو سکتی ہیں جنہوں نے،ویران جزیرے کو آباد کیا۔ جنیٹک معلومات کا ذریعہ، ایک چھوٹے جاندار سے انسان کی ارتقاء کا ثبوت نہیں دیتا،اِسکے لئے نئی جیٹک معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔26
  2. پروں کے کچھ خاص کام ہوتے ہیں۔جن میں سے کچھ ممکنہ افعال،جو نہ اُڑنے والے پرندوں میں ہیں،وہ یہ ہیں:دوڑتے وقت متوازن رکھتا،سردموسم میں گرم رکھنا،سردموسم میں گرماہٹ دینا ،پسلیوں کی حفاظت،رسمی رفاقت،شِکار کو ڈرانے کے لِئے (آسٹریلوی شُتر مُرغ اپنے بچوں کو کھُلے مُنہ اور پّر ہلاتے ہوئے دُشمن کے حملوں سے بچاتا ہے)چوزوں کی حفاظت وغیرہ کرنا۔اگر پّر کِسی کام کے نہ ہوتے ،تو پٹھے کیوں ہوتے ،اِس لِئے کہ یہ پروں کو حرکت دے سکیں؟

سور کے دو پاؤں جو زمین کو نہیں لگتے؟

کیا اِس سے مُراد یہ ہے کہ چھوٹے پاؤں کا کوئی کردار نہیں؟بالکل نہیں۔سور اپنے آپ کو ٹھنڈا کرنے کے لِئے بہت سا عرصہ پانی اور دلدلی جگہ میں گُذارتے ہیں اِسلِئے پاؤں کا یہ اُبھرا ہوا حِصہ اُسے مٹی میں چلنے میں مدد دیتا ہے(جیسے ایک پہیے کے اُبھار بمشکل ہی ٹائیر کو زمین پر لگنے دیتے ہیں)ہوسکتا ہے کہ پاؤں کے ساتھ یہ اِضافی پٹھے سور کی ایڑیوں کو مضبوط بناتے ہیں۔

مردو ں کی چھاتی کیوں ہوتی ہے؟

مرد کی چھاتی ایمبریو کی ابتدائی نشونُما سےدیکھی جاسکتی ہے ۔ایمبریوز میں مرد اور عورت جیسے عضو بنتے ہیں مثلاً ایک جیسا سانچہ۔یہ چھاتی بھی تخلیقی سانچہ کا ایک حِصہ ہے۔جیسا کہ برگمِن اور پاؤی27 نے نشاندہی کی کہ مردوں میں چھاتی کا کوئی کام نہیں یہ بحث ابھی بھی زیرِ غور ہے۔

ارتقاء پسند مردوں کی چھاتی کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کیا مرد عورت سے پیدا ہؤا ؟ یا پہلے مرد بھی بچوں کو دودھ پِلاتا تھا ؟یقیناً کوئی بھی ارتقاء پسند ایسا نہیں کہے گا۔مرد کی چھاتیاں نا تو ارتقاء کا ثبوت ہیں اور نہ ہی پیدایش کے خلاف ثبوت۔

کیونکہ خرگوش کا نظامِ انہظام اِتنا صحیح ہے تو کیا اُسے اپنا پاخانہ دوبارہ کھانا چاہیے؟

تصویر Kostas Jariomenko12617-bunny
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ خرگوش کی بناوٹ پائیدار نہیں ،اِسکے باوجود وہ افزائش کے لحاظ سے سب جانداروں سے زیادہ کامیاب ہے۔

یہ ایک حیران کُن بات ہے ۔اِسطرح تو یہ سب سے کامیاب سپیشی رہی ہوگی! بیشک خرگوش کا وجود کافی حد تک بہتر ہے (خرگوش کی نسل پرستی کے بارے میں کیا کہنا ہے؟)اگرچہ یہ اِنسانوں کے لِئے اپنا پاخانہ کھانے کی وجہ سے دِل خراش ہوسکتا ہے ،اِسکا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ خرگوش کے حق میں بھی بہتر نہ ہو!خرگوش کے جسم میں تھیلی نُما ایک آرگن پایا جاتا ہے جِسے سِکم کے نام سے جانا جاتا ہے،جس میں بیکٹیریاز موجود ہوتے ہیں ،یہ سِکم لارج اِنٹسٹائین کے آخری حِصہ میں پایا جاتا ہے ۔یہ بیکٹیریاز خوراک کو ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے ۔بالکل ایسے ہی جیسے بھیڑ اور مویشی کے پیٹ میں بیکٹیریاز خوراک کو ہضم کرنے کے لِئے مدد فراہم کرتے ہیں۔

خرگوش دو قِسم کا پاخانہ خارج کرتا ہے ایک سخت اور دوسرا جو سیکم سے پیدا ہوتا ہے وہ نرم ہوتا ہے ۔دوسرے پاخانہ سے بیکٹیریا کی مدد سے زیادہ نیوٹیرئینٹ حاصِل کیے جاتے ہیں۔دوسرے الفاظ میں خرگوش کی یہ خصوصیات تخلیقی ہیں؛اُنہیں اِسے سیکھنا نہیں پڑا بلکہ یہ خصوصیت قدرتی طور پر موجود تھی ۔یہ ارتقاء کے بجائے پیدایش کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔

تنقید کرنے والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بائبل غلط ہے اور کہتے ہیں کہ خرگوش کو 'جگالی کرتا'ہے(احبار11:6)۔عبرانیوں میں لِکھا ہے ،"جو نگلا جا چکا اُسے اور آدھے ہضم شُدہ پاخانہ کو دوبارہ کھاتا ہے۔تنقید کرنے والے سراسر غلطی پر ہیں۔

بغیر ٹانگوں کے چھپکلی

یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے بغیر ٹانگوں کی چھپکلی اصل قسم کی مخلوق سے جنیٹک معلومات کے کھوجانے پر وجود میں آئی۔عضو سے 'محرومی'ارتقاءپسندوں کی تصدیق نہیں کرتا،کیونکہ وہ عضو ختم ہونے کے بجائے بننے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ہدایات کا ضائع ہونا'امیباسے انسان تک کی ارتقا کی وضاحت نہیں کرسکتا۔ پیدائش3:14 میں ظاہر ہوتا ہے کے کبھی سانپ کے بھی پاؤں ہوا کرتے تھے۔28

موافقت اور قدرتی انتخاب بائیولوجیکل حقائق ہیں؛امیبا سے انسان کا ارتقاء نہیں ہوسکتا ۔قدرتی انتخاب جانداروں کی آبادی کی جنیٹک معلومات ہی سے کام کرسکتی ہے۔مثال کے طور پر،کسی رینگنے والے جانور میں پروں کے لئے جینز نہیں ہوتے۔پروں کے جینز کی کوئی بھی مقدار ایک رپٹائل (رینگنے والا جانور)کے پّر نہیں اُگا سکتا۔جینز میں میموٹیشنزصرف پہلے سے موجود عضو کو ختم یا تبدیل کرسکتے ہیں۔تاکہ ایک نئے عضو کو پیدا کرسکے۔اگر ایک چھپکلی چھوٹی ٹانگوں کے ساتھ،یا بغیر ٹانگوں کے رہ سکتی ہے تو اُسکی یہ قِسم اِن خوبیوں کو اپنے مخصوص ماحول کے مطابق اپنا لیتی ہیں۔اِسے ہم ارتقاء کے بجائے وراثت کہتے ہیں۔

چھپکلی کی ٹانگوں میں فوری تبدیلی تو آسکتی ہے،جیسا کہ باہمین جزیرہ پر ۔یہاں تبدیلی اتنی جلدی ہوئی کہ جتنا ارتقاء پسند سوچ بھی نہیں سکتے۔29 اِس تبدیلی میں نئی جنیاتی معلومات شامل نہیں اور اِس لئے یہ امیباسے اِنسان تک کے ارتقاء کی حمایت نہیں کرتا۔اُنہوں نے اِس بات کو ظاہر کیا کہ سیلاب کے بعد کیسے مختلف مخلوقات نے ماحول میں اپنے آپ کو ڈھالا۔

اِنسانی اپینڈکس

12617-guts
اِنسانی اپینڈکس سمال انٹسٹائن کو لارج انٹسٹائن میں موجود جراثیم سے محفوظ رکھتی ہے۔

انسانی اپینڈکس میں لِمفیٹک ٹشو موجود ہوتے ہیں جو بیکٹریا کو انٹسٹائن میں داخل ہونے سے بچاتے ہیں۔یہ بالکل خوراک کی نالیوں میں رسولیوں کی طرح کام کرتا ہے ،جسے گلے کو انفیکشن سے محفوظرکھنے کی حیثیت حاصِل ہے ۔

اپینڈکس ایک ' بیکٹریا سے حفاظت 'کرتا ہے تاکہ نظامِ انہظام کوخرابیوں سے محفوظ رکھا جائے۔ کیونکہ 30یا اِس سے زیادہ بار ارتقاءپسندوں نے کہا کہ یہ خوبخود وجود میں آیا! اپینڈکس ارتقائی کہانی کے لیے ابھی تک ایک مسئلہ ہے۔گلے کی رسولیوں کو بھی ایک وقت میں بیکار آرگن کہا جاتا تھا۔31،30

بڑی مچھلی کی پیٹھ کی ہڈی

کچھ ارتقاء پسندوں کا دعویٰ ہے کہ بڑی مچھلی زمینی جانوروں سے پیدا ہوئی۔تاہم'برکمن اور پاؤ29 نے نشاندہی کی کہ یہ ہڈی نر اور مادہ میں مختلف تھی۔32 یہ ہرگِز بےمعنی نہیں،بلکہ یہ تولیدی عوامل میں مددگار ثابت ہوتی ہے(کوپیولیشن)۔33

بلین وہیل کے ایمبریو میں دانت

ارتقاء پسندوں نے دعویٰ کیا کہ دانت اِس بات کو ظاہر کرتے ہیں بلین وہیل دانتوں والی وہیل سے پیدا ہوئی۔تاہم،اُنہوں نے اِس نظام کی تفصیل بیان نہ کی۔اور ایمبریو میں دانتوں کا بننا طاقتور جبڑوں کے بننے کے لیے ہدایت فراہم کرتا ہے۔

ارتقاء پسندوں کا کہنا ہے "۔۔۔وسیٹیجیل آرگنز ارتقائی فلسفہ کے لِئے کوئی شواہد پیش نہیں کرتے۔"34

بن مانس؟

12617-erectus
ہومواریکٹس ،اِنسان کِسی قِسم ،کو ایک بار اِنسان کے وجود میں آنے کی 'کڑی' کے طور پر مشہور کیا گیا۔

کیا واقعی اِس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ اِنسان بن مانس سے پیدا ہوا؟بہت سے لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اِنسا نی خاندان خالص نقشے پر مبنی ہے ۔اُنہوں نے 'گُمشدہ رابطہ 'ڈھونڈا اور اِسے اِنسان کی اِرتقاء کی کڑی کے طور پر استعمال کیا۔تاہم ،اِنسان کے اباؤاجداد سے متعلق کوئی خاطر خواہ شواہد موجود نہیں۔ نہیں۔'گُمشدہ کڑی'ابھی بھی گُمشُدہ ہی ہیں یہاں سب سے جانے مانے فوسلز کے حقائق کے خلاصہ کو بیان کیا گیا ہے۔36،35

بن مانس کی نفی

کِسی وقت میں مُختلف اوقات پر اِنسان اور بن مانس کے درمیان رشتہ کو ظاہر کیا گیا۔لیکن اب خود اِرتقاء پسند اِس کی نفی کرتے ہیں۔

  • Homo Sapeins neanderthalnesis (نندرتال-اِنسان) — 150 سال قبل نندرتال(پُرانے اِنسان) کے بدن کی تعمیر میں جُکھاؤ آیا،کافی حد تک 'بن مانس' کی طرح ۔اب بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کے بدن کا یہ جُکھاؤ ایک بیماری کے باعث ہؤا (ہڈیوں کی بیماری) اور یہ نندرتال اِنسان تھے کیونکہ یہ اِنسانی اوصاف کے ماِلِک تھے مثلاً یہ بول سکتے تھے ،مذہبی جذبہ رکھتے تھے اور فنی مہارت بھی رکھتے تھے۔37
  • Ramapithecus اِنہیں بھی ایک زمانے میں اِنسا ن کے اباؤاجداد کہا گیا ،اب اِسے بن مانس کی ایک سپیشی کے طور پر جانا جاتا ہے۔
  • Eoanthropus ایک ہاکس ،اِنسا ن کی سی کھوپڑی رکھتا ہے اور بن مانس کے مُنہ میں جبڑے ہوتے ہیں اور اِسے 40 سالہ گُم شُدہ رابطہ کے طور پر نشر کیا گیا ،اور کافی حد تک اِسے قبول بھی کیا جاتا ہے۔
  • Hesperopithecus اِس میں سوّر قِسم کاایک ہی دانت موجود ہوتا ہے جِسے اب پیراگائے کے مُقام پر رکھا گیاہے۔
  • Pithecanthropus اِنہیں اِنسان کہا جاتا ہے جو ہومواِریکٹس کہلاتا ہے۔
  • Australopithecus africanus اِسے بھی گُمشُدہ رابطہ کے طور فروغ دیا گیا۔یہ کافی زیادہ بن مانس کی طرح دِکھتا ہے ۔اِسلِئےسائنسدانوں نے اِسے (اِنسان اور بندر ) کےدرمیان کڑی تصور نہیں کرتے ۔
  • Sinanthropus اِسے اِنسانی قِسم کے ہومواِریکٹس کے طور پر ایک بار پھِر درجہ بندی کی گئی۔
12617-africanus
Australopithecus africanus

موجودہ دور کا جدید بن مانس

بن مانس کا یہ اِرتقائی درخت ہوموسیپئین ،کا بندر سے پیدا ہونے کے ثبوت کو پیش کرتا ہے۔

  • Australopithecus اِسکی بہت سی سپیشیز کو اِنسان کے اباؤاجداد وہونے کا دعویٰ کیا گیا ۔جِسے ـــــAusralopithecus africanus ،'لوسی'فوسل کے نام سےجانا جاتا ہے۔ڈاکڑ چارلس اوکسنارڈ،ایک مشہور اِرتقاء پسند ،نے Australopithecus اور دیگر فوسِلز کو پڑھ کر یہ کوئی نتیجہ اخذ کیا،''کہ آسٹریلوپائیتھِکس اور افریقن بندر اِنسانوں سے بالکل مُختلِف ہیں۔''دورسرے لفظوں میں بندر کی قِسم اِنسانوں سے نہیں مِلتی۔38
  • Homo habilis اِنسان کے فوسِلز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سب فضول ہے ۔اِس میں مُختلف قِسم کی مثال شامِل ہیں ،مثلاًآسٹریلوپائیتھِکس اور ہومواِریکٹس۔اِسلِئے یہ ایک 'ناقابلِ اعتبار ٹیکسن ' ہے ،جِس سے مُراد ہے کہ اِس قِسم کی مخلوق کا کوئی وجود نہیں۔جبکہ باقی اِرتقاء پسندوں کا کہنا ہے کہ اِنسان اور بن مانس میں کوئی تعلق نہیں۔39 اِسلِئے پہلے پہل اِنسان اور بن مانس کے درمیان'واضح رابطہ'کے طور پر دعویٰ کیا جاتا تھا۔
  • Homo erectus دُنیا میں اِس قِسم کے بہت سے باقیات دیکھے گئے۔اِس کے گروپس میں جاوامین(پائیتھ-کین-تھروپ) اور پیکنگ مین(سِن-اینتھرو-پس) شامِل ہیں،جِسے ایک بار اِنسان اور بندر کے درمیان 'گُمشُدہ رابطہ'کے طور پر فروغ دیا گیا۔اِنکی کھوپڑی پر سامنے ماتھے پر نندرتال(پُرانے اِنسانوں) کی طرح اُبھار موجود تھے ،اور اُنکے بدن بھی آج کے اِنسان کی طرح تھے ،یہ شاید زیادہ طاقتور۔اِسکے ذہن کا سائیز آج کے اِنسان کی طرح تھا اور اندرونی کان ہومواِریکٹس کی مانند ہے اور وہ بالکل ہماری طرح چلتے تھے ۔ ہومواِریکٹس جِسمانی اور رسوماتی طور پر بالکل اِنسان کی طرح تھے ۔کُچھ ارتقاء پسندوں کا کہنا تھا کیونکہ اِریکٹس مُکمل اِنسان ہیں تو اُنہیں ہوموسیپئین میں شُمار کرنا چاہیے۔40

اِرتقاء پسندوں کے تین گروہ جِنہوں نے بے شُمار بندروں ،اورینگیوٹینز اور ایک نامعلوم آبی بن مانس کو ہمارے اباؤاجداد کے طور پر پیش کیا،جس سے یہ ثابت ہؤا کہ کوئی بھی فوسِل اور جینیاتی ثبوت اِنسان کے بندر سے بننے کو ثابت نہیں کرسکتا۔41 تو تمام گُمشدہ کڑیاں گُمشُدہ ہی ہیں کیونکہ وہ کبھی موجود ہی نہیں تھیں ۔بائبل صاف بیان کرتی ہے ،''خُدا نے اِنسان کو زمین کی خاک سے پیدا کیا،اور اُسکے نتھنوں میں زِندگی کا دم پھونکا ،اور آدم جیتی جان ہؤا۔ ''(پیدایش 2:7)'بن مانس 'کی بے بُنیاد تاریخ کو مدِنظر رکھتے ہوئے،ہر نئے دعویٰ کو تنقید کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔

دوسرے فوسِلز میں تبدیلی

اگر اِنسان کے آغاز سے مُتعلق مُختلف ارتقائی کہانیاں درست ہوتیں تو فوسِلز کے ذریعے ایک جاندار کے دوسرے میں مُنتقل ہونے کو دیکھا جاسکتا ۔ وہ کہتے ہیں کہ آخر میوٹیشن اور قُدرتی اِنتخاب کا عمل صدیوں سے جاری ہے،زمین کی تہوں نے فوسِلز کے اِس ریکارڈ کو محفوظ کر کے رکھا۔بیشک اِن میں سے کُچھ اہمیت کی حامِل بھی ہیں ،یہا ں تک کہ ارتقاء پسند بھی اِسکی خصوصیات سے مُتفِق نہیں۔مُختلف فوسِلز کے ثبوت کا دعویٰ جو مُختلف جانداروں کو آپس میں مِلاتے ہیں اِسکی بُنیاد کِسی تحقیق پر نہیں۔42

فوسِلز میں تبدیلی کے باعث اِرتقاء پسندوں نے 1970 کی دہائی میں اِرتقاء کے ایک نئے رُخ کا اِستعمال کیا تاکہ وہ فوسِلز کی مُنتقلی کو دیکھے بغیر ہی اِس پر یقین کریں۔یہ خیال ــ پنکچوئیٹڈ ایکویلیبریم ــــ بُنیادی طور پر اِس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اِرتقائی تبدیلیاں بہت تیزی سے وجود میں آئیں ،جغرافیائی طور پر ،اِسے ثابت کرنے کے لِئے کوئی بھی فوسِلز محفوظ نہ رہا۔43

12617-tree12617-orchard
ارتقائی درخت (اوپر) کے درمیان موازنہ جِس کے شواہد کم تھے ـــــ اور تخلیق کاروں نے (نیچے) ــــــ اِسے ثابت کرنے کے لِئے بائبل مُقدس کے ساتھ مُنسلک کیا گیا۔

نتیجہ

اِرتقاء کے فرضی ثبوت تنقیدی اِمتحان کو برداشت نہ کر سکے۔44 خُدا کے مُختلف مخلوقات کو پیدا کرنے کے شواہد موجود ہیں،یہ جاندار اپنے اصل تخلیق شُدہ جینیاتی ہدایات کو اپنے ماحول کی تبدیلی کے مُطابِق تبدیل کرسکتے ہیں۔(جنسی پیداوار میں تبدیلی کے باعث)،قُدرتی اِنتخاب کے ذریعے بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔کُچھ تبدیلیاں میوٹیشن کے باعث وجود میں آئیں ،جو جنیٹک ہدایات کو مسخ کرنے کا سبب بنتیں ہیں،یا ایسی تبدیلی جِس میں ہدایات نہ تو گُم ہوتی ہیں اور نہ ہی حاصِل ہوتی ہیں ۔

نئی جینٹک ہدایات کو بنانے کا قدرتی عمل بہت آہستہ ہوتا ہے کہ ارتقاء یقینی طور پر اِسکو بنانے کا سبب نہیں بن سکتا۔45 پیدائش ثبوت کی وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے ہے۔

حوالہ جات

  1. Spetner , L., Not by Chance, Judaica Press , NY, 1988. متن پر واپس جائیں۔
  2. Behe , M., Darwin’s Black Box, The Free Press , NY, 1996. متن پر واپس جائیں۔
  3. Gish, D.T., Evolution: The Fossils Still Say No! Institute for Creation Research, San Diego, CA, USA, 1995. متن پر واپس جائیں۔
  4. ڈاکڑ کولِن پیٹر سن کی جانب سے خط،پھِر لوٹھر ڈی سنڈر لینڈ کو لندن کے قُدرتی تاریخ کی برطانوی عجائب گھر کے سینئیر پیلینٹولوجسٹ کی جانب سے خط۔.
    See Sunderland, L.D., Darwin’s Enigma, Master Books, Green Forest, AR, USA, p.12, 1998. متن پر واپس جائیں۔
  5. جب یہ ارتقائی کہانی کے ساتھ میل کھا جاتا ہے تو اِسے ہومولوگی کے نام سے جانا جاتا ہے،اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھِر اِسے ہوموپلیسز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ متن پر واپس جائیں۔
  6. Tomkins, J., and Bergman, J., Genomic monkey business—estimates of nearly identical humans-chimp DNA similarity re-evaluated using omitted data, Journal of Creation 26(1):94–100,2012; creation.com/chimp. متن پر واپس جائیں۔
  7. Buggs, R. , Chimpanzee? Reformatorisch Dagblad; www.refdag.nl/chimpanzee_1_282611, October 2008.
    ڈاکڑ برگ ایک ماہرِ جینیات ہیں۔ متن پر واپس جائیں۔
  8. ۔مولیکیولر ہومولوگی تخلیق کاروں کو حقیقی قِسم کو پہاننے اور ہر قِسم میں نئی سپیشی کے پیدا ہونے کے پرحلے کو بیان کرتا ہے ۔مثال کے طور پر ،ایک خاص چڑیا کی سپیشی جو گیلاپاگس کے جزیرہ پر پائی جاتی ہے۔ظاہری طور پر یہ اُس اصل نسل سے پیدا ہؤا ۔اصل تارکینِ وطن میں تبدیلی ریکمبینیشن اور نیچرل سیلیکشن سے وجہ سے آئی – جِسطرح تمام نسل کے کُتے جنگلی کُتوں کی پیداوار ہیں۔مولیکیولر ہومولوگی ہمیشہ بائبل میں مُختلف جانداروں کی اِقسام کو ظاہر کرتی ہے۔تاہم،گروپس اور فائلہ اِرتقاء کے اِختلافات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ متن پر واپس جائیں۔
  9. Denton, M., Evolution: A Theory in Crisis, Burnett Books, 1985. متن پر واپس جائیں۔
  10. Keightley , P.D. et al., Evidence for widespread degradation of Gene control regions in hominid genomes, PloS Biology 3, e42, 2005. کی جانب سے رائے Nature Reviews Genetics 6(3):163, March 2005. متن پر واپس جائیں۔
  11. Rusch, W.H. Sr, Ontogeny recapitulates phylogeny, CRSQ 6(1):27–34, 1969. متن پر واپس جائیں۔
  12. Grigg, R., Ernst Haeckel: evangelist for evolution and apostle of deceit, Creation 18(2):33–36,1996; creation.com/haeckel. متن پر واپس جائیں۔
  13. Simpson, G.G. and Beck, W.S., An Introduction to Biology, p. 241, 1965. متن پر واپس جائیں۔
  14. Thompson, K., Ontogeny and Phylogeny recapitulated, American Scientist 76:273, 1988. متن پر واپس جائیں۔
  15. Raven, P.H. and Johnson, G.B., Biology (3rd ed.), Mosby–Year Book, St. Louis, MO, p. 396,1992. اِس رائے کو 2012 میں آسٹریلیا ھائیر سکول سرٹیفیکیٹ کے امتحانات میں کافی پذیرائی مِلی۔; creation.com/biology-exam-fraud. متن پر واپس جائیں۔
  16. Parade Magazine, 22 April 1990. متن پر واپس جائیں۔
  17. Raven and Johnson, 1992. متن پر واپس جائیں۔
  18. Langman, J., Medical Embrology (3rd ed.), p. 262, 1975. متن پر واپس جائیں۔
  19. مثال کے طور پر، Gilbert, S., Developmental Biology (5th ed.), Sinauer Associates, MA, pp. 254, 900, 1997. گِلبرٹ کے تصاویر کو غلط طریقے سے پیش کیا۔ ‘Romanes, 1901’. متن پر واپس جائیں۔
  20. Richardson, M. et al., There is no highly conserved stage in the vertebrates: implication for current theories of evolution and development, Anatomy and Embryology 196(2):91–106, 1997, Springer-Verlag GmbH & Co., Heidelberg. متن پر واپس جائیں۔
  21. Grigg, R., Fraud rediscovered, Creation 20(2):49–51, 1998; creation.com/fraud. متن پر واپس جائیں۔
  22. Van Niekerk, E., Countering revisionism—part 1: Ernst Haeckel, fraud is proven, Journal of Creation 25(3):89–95, 2011; creation.com/haeckel-fraud. متن پر واپس جائیں۔
  23. Ballard, W.W., Problem of gastrulation: real and verbal, Bioscience 26(1):36–39, 1976. متن پر واپس جائیں۔
  24. ReMine, W.,J., The Biotic Message Theory, St Paul Science, St Paul, MN, USA, 1993; p. 370; نظر ثانی کریں: creation.com/biotic. متن پر واپس جائیں۔
  25. ایمبریوز کے بارے میں مذید معلومات کے لِئے دیکھیں: Vetter, J., Hands and feet—uniquely human, right from the start! Creation 13(1):16–17,1990; creation.com/hands-feet, Glover, W. and Ham, K., A surgeon looks at creation, Creation 14(3):46–49,1992; creation.com/glover. متن پر واپس جائیں۔
  26. Wieland, C., Beetle bloopers: even a defect can be an advantage sometimes, creation.com/beetle. متن پر واپس جائیں۔
  27. Bergman, J. and Howe, G., ‘Vestigial Organs’ are Fully Functional, Creation Research Society Monograph No. 4, Creation Research Society Books, Terre Haute, 1990. متن پر واپس جائیں۔
  28. Brown, C., The origin of the snake (خط), Creation Research Society Quarterly 26(2):54–55, 1989. براؤن نے تجویز پیش کی کے چھپکلیوں کا مُشاہدہ کیا جائے ہو سکتا ہے یہ سانپ سے پہلے پائی جاتی ہوں۔ متن پر واپس جائیں۔
  29. Losos, J.B., Warheit, K.I. and Schoener, T.W., Adaptative differentiation following experimental island colonization in anolis Lizards, Nature 387:70–73, 1997. کی رائے پر غور کریں Case, T.J., Nature 387:15–16, 1997, and Lizard losers (and winners) Creation 30(1):35–37; creation.com/lizard. متن پر واپس جائیں۔
  30. Catchpole, D., Appendix shrieks ‘Creation’ (at least 18 times), April 2013, مُنسلک آرٹیکلز; creation.com/appendix4. متن پر واپس جائیں۔
  31. Glover, J.W., The human vermiform appendix—a general surgeon’s reflection, Journal of Creation 3:31–38, 1988; creation.com/appendix2. متن پر واپس جائیں۔
  32. Bergman and Howe, 1990. متن پر واپس جائیں۔
  33. Wieland, C., The strange tale of the leg on the whale, Creation 20(3):10–13, 1998; creation.com/whaleleg. متن پر واپس جائیں۔
  34. Scadding S.R., Do vestigial organs provide evidence for evolution? Evolutionary Theory 5:173–176, 1981. متن پر واپس جائیں۔
  35. مذید معلومات کے لِئے, Lubenow, M., Bones of Contention: A creationist Assessment of the Human Fossils (revised and updated), Baker Books, Grand Rapids, MI, 2004. متن پر واپس جائیں۔
  36. بوزنا آدمی(بندرنُما) ،کی ڈاکومینٹری ویڈیو دیکھنے کے لِئے The Image of God, Keziah Films. متن پر واپس جائیں۔
  37. Oard, M., Neandertal Man—the changing picture, Creation 25(4):10–14, 2003; creation.com/neandertal. متن پر واپس جائیں۔
  38. Oxnard, C.E., Fossils, Teeth and Sex—New Perspective on Human Evolution, Uni. Washington Press, Seattle and London, p. 227, 1987. متن پر واپس جائیں۔
  39. Bell, P., Homo habilis hacked from the family tree; creation.com/habilis, 14 Sep. 2007. متن پر واپس جائیں۔
  40. مثال کے طور پر, Milford Wolpoff—see Lubenow, pp. 124–134, 2004. متن پر واپس جائیں۔
  41. Batten, D., Human evolution: oh so clear? Creation 32(2):46–47, 2010; creation.com/human-evolution-stories. متن پر واپس جائیں۔
  42. Gish, D.T., Evolution: The Fossils Still Say No! Institute for Creation Research, EI Cajon, CA, 1995. غور کریں Fossils Q&A: creation.com/fossils. متن پر واپس جائیں۔
  43. Batten, D., Punctuated equilibrium: come of age? Journal of Creation 8(2):131–137,1994; creation.com/punc. متن پر واپس جائیں۔
  44. ارتقاء کے وعوے دار گواہیوں اور تفصیلات کو پڑھنے کے لِئے دیکھیں۔: Wieland, C., Stones and Bones, Creation Book Publishers, Powder Springs, GA, 2011; and Sarfati, J., Refuting Evolution, 5th ed., Creation book Publishers, 2012. For in-depth reading see Carter, R., (Ed.), Evolution’s Achilles’Heels, Creation Book Publishers, Powder Springs, GA, 2014. متن پر واپس جائیں۔
  45. Spetner, L.M., Not by Chance, Judaica press, New York, 1998. متن پر واپس جائیں۔